پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

14سو ارب کو بھول جائیں۔۔سستا ترین ڈیم ہم بنا کر دینگے پاکستان کی سب سے بڑی مشکل حل ، ڈیم بنانے کیلئے کون میدان میں آگیا؟حکومت کو شاندار پیش کش کر دی گئی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (بیورورپورٹ) 1400 ارب نہیں بلکہ 500ارب روپے میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر، پاکستان انجینئرنگ کونسل نے شاندار پیش کش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے چیف جسٹس کی کوششوں سے ڈیم فنڈز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جس میں ڈیمز کی تعمیر کیلئے عطیات دئیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں یہ بات بھی

سامنے آئی ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے 1400ارب روپے درکار ہیں جو کہ ایک خطیر رقم ہے تاہم اب پاکستان انجینئرنگ کونسل نےایسی پیش کش کرتے ہوئے شاندار اعلان کیا ہے جس کےبعد پاکستانی عوام کیساتھ ساتھ چیف جسٹس کی بھی خوشی کی انتہا نہیں رہے گی۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل نے بھاشا ڈیم کی تعمیر 5 سو ارب روپے میں کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔پا کستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین جاوید سلیم قریشی نےگزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تک ملک میں 21 اور 22 گریڈ پر کوئی انجینئر نہیں جبکہ ملک کی پالیسی 21اور 22گریڈ کے افسر بناتے ہیں۔ملکی قانون کے مطابق اگر کوئی نان انجینئر اور انجینئر کام کرتا ہے تو اسے 6ماہ قید کی سزا ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں بڑے منصوبوں کی پالیسیاں نان انجینئرز بناتے ہیں۔ ہم دیا مر بھاشا کی تعمیر کوویلکم کرتے ہیں مگر منصوبے میں انجینئر کے کردار کو انجینئر کو ہی نبھانے دیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ چندے سے دیامر بھاشا ڈیم بننے میں بہت دیر ہو جائے گی ۔ انہوں نےکہا کہ دیا مر بھاشا ڈیم کو سکوک بانڈز کے ذریعے جلدی تعمیر کیا جا سکتا ہے جس سے بجلی کی لاگت تھرمل سے سستی ہو گی ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جتنے پروفیشنل انجینئرز کی جگہ نان پروفیشنل انجینئرز ہیں ان کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ جاوید سلیم قریشی کا کہنا تھا کہ

نان انجینئرز کی تعیناتی کی وجہ سے ہی سرکلر ڈیٹ 1.5 ٹریلین تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتےہوئے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروائے اور توانائی سمیت پانچ وزارتوں میں انجینئرز کو شامل کیا جائے۔ بھاشا ڈیم پاکستان کی لائف لائن ہے پاکستان انجینئرنگ کونسل 5 سو ارب میں بھاشا ڈیم بنانے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے حکومت کو دو سو ارب روپے بچا کر دینے کی بھی پیش کش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پس پاور پلانٹس بنانے کیلئے لوگ بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی بنائی جانی چاہئے جس کے شیئرز فروخت کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…