جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خاشقجی کی گمشدگی کے روز ترک حکام نے سعودی طیارے کی تلاشی لی تھی : پولیس

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

استنبول(انٹرنیشنل ڈیسک)گذشتہ ہفتے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کی پر اسرار گم شدگی کے روز شبے کی بنیاد پر ترک حکام نے سعودی عرب سے آئے ایک پرائیویٹ جیٹ کی تلاشی بھی لی تھی، تاہم وہاں سے خاشقجی کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

تْرکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ترک پولیس کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب کے پرائیوٹ طیارے کی مکمل تلاشی لینے سے اس میں خاشقجی کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلا جس کے بعد جہاز کو سعودی عرب کے لیے پرواز کی اجازت دے دی گئی تھی۔قبل ازیں ترک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب جمال خاشقجی کی گْم شدگی کے حوالے سے جاری تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کر رہا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اقصوی نے ایک بیان میں کہا کہ ویانا سمجھوتے کے تحت قونصل خانوں اور سفارت خانوں کو تحفظ حاصل ہے مگر سعودی حکام نے یقین دلایا ہے کہ وہ ترک حکام کو قونصل خانے کی تلاشی لینے اور اندر داخل ہو کر تحقیقات کرسکیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ مل کر جمال خاشقجی کی گم شدگی کا پتا چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔خیال رہے کہ صحافی جمال خاشقجی گذشتہ منگل کو ضروری دستاویزات کیحصول کے لیے استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے گئے مگر اس کے بعد سے انہیں نہیں دیکھا گیا۔ ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ خاشقجی کو سعودی حکومت پر تنقید کی پاداش میں قتل کرکے اس کی لاش غائب کر دی گئی ہے تاہم ترکی اس دعوے کے ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ سعودی عرب نے بہ ظاہر خاشقجی کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ خاشقجی قونصل خانے میں آنے کے بعد واپس چلے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…