ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مہنگے پانی کی فروخت: ملک بھر کی منرل واٹر کمپنیوں کو نوٹس جاری

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے منرل واٹر کمپنیوں کے مہنگے پانی فروخت کے کیس میں تمام کمپنیوں کو نوٹس جاری کردیئے اور ریمارکس دیئے کہ منرل واٹر کمپنی کرائےکی جگہ لےکرمفت کاپانی بیچ رہی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں منرل واٹر کمپنیوں کے مہنگے پانی کی فروخت سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔

جس سلسلے میں ایک منرل واٹر کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ملک کی تمام منرل واٹر کمپنیوں اور صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرلز بھی آکر بتائیں کہ کیا نرخ ہونا چاہئیں، منرل واٹر کمپنیوں کے فی لیٹر اعشاریہ 2 پیسےکی ادائیگی کوئی ریٹ نہیں، کم از کم نرخ 50 پیسہ یا ایک روپیہ فی لیٹر ہونا چاہیے، ماہرین کی کمیٹی بھی بتائےکمپنیوں کیلئےکیانرخ مناسب ہوگا۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پانی ملک کا سب سے بڑا ریسورس ہے جو مفت دیا جارہا ہے، منرل واٹر کمپنی کرائےکی جگہ لےکرمفت کاپانی بیچ رہی ہے، کمپنیوں نے اربوں روپے کمائے، منرل واٹر کمپنی 25 سال سےکام کررہی ہے، پانی کی رقم ادانہیں کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے منرل واٹر کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ ہم گھروں پرکشت کرکے پانی بچارہےہیں، آپ کرائے کی جگہوں سے پانی نکال کر بیچ رہے ہیں، پورٹ قاسم والی فیکٹری کا بھی دورہ کروں گاکہ پانی کہاں سے لے رہے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو فرانزک آڈٹ ٹیم بناکر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جب کہ مزید سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…