بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف کی آٹھوں بھینسیں نیلام، مجموعی طور پر کتنے روپے میں خریدی گئیں، کٹا کتنے میں بکا؟ایسی تفصیلات کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم ہائوس کی بھینسوں کی نیلامی کا عمل مکمل، تمام بھینسیں نیلام کر دی گئیں، 23لاکھ2زار میں 8بھینسوں کو فروخت کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم ہائوس کی بھینسوں کی نیلامی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام بھینسیں نیلام کر دی گئی ہیں۔ وزیراعظم ہائوس کی 8بھینسیں مجموعی طور پر 23لاکھ 8ہزار روپے میں فروخت کی گئی ہیں۔

نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہائوس کی بھینسوں کی نیلامی کا عمل ایک گھنٹے 20منٹ میں مکمل ہوا۔ پہلی بھینس 3لاکھ 85ہزار روپے میں فروخت ہوئی جبکہ تین بھینسیں نیلامی کیلئے پیش کی گئی تھیں جن میں سے دوسری بھینس 3لاکھ روپے میں اور تیسری بھینس تین لاکھ 30ہزار روپے کی فروخت ہوئی۔ان کے ساتھ چارکٹیاں بھی فروخت کی گئی ہیں جن میں سے ایک 3لاکھ پانچ ہزار، دوسری دو لاکھ 70ہزار ، تیسری دو لاکھ 15ہزار اور چوتھی کٹی ایک لاکھ 82ہزار میں نیلام ہوئیں جبکہ کٹے کی بھی حیران کن طور پر نیلامی بھاری قیمت 3لاکھ 15ہزار روپے میں عمل میں آئی۔ یوں مجموعی طور پر آٹھوں جانور 23لاکھ دو ہزار میں نیلام ہوئے۔ ن لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد اس موقع پر نیلامی میں شرکت کیلئے موجود تھی اور خریداروں میں سے کسی نے مریم نواز سے محبت کی وجہ سے بھینس خریدی جبکہ اس موقع پر چند خریداروں نے تحریک انصاف کی کفایت شعاری اور قومی خزانے کو فائدہ دینے کیلئے بھینسوں کی قیمت زیادہ لگائی۔بولی کے دوران بد نظمی بھی  دیکھنے میں آئی۔خریدار اور بولی لگانے والے آپس میں الجھ پڑے ۔نجی ٹی وی  کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں آٹھ بھینسوں کی نیلامی جاری ہے جس میں دو فروخت بھی ہو گئی  ہیں تاہم خریداروں نے شکوہ کیا۔بھینسوں کی اتنی قیمت نہیں جتنی لگائی جارہی ہے ، اس موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں بھینسوں کی بولی لگانے والے عملے  نے کہا ہے کہ یہ اوپن بولی ہے جس نے بھینس لینی ہے لے ورنہ واپس چلا جائے ، خریدار کو نقد رقم بھی ادا کرنا ہو گی ۔بھینسوں کی نیلامی کے دوران خریداروں اور بولی لگانے والے عملے کے دوران نوک جھونک بھی دیکھنے میں آئی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…