بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کاشتکارکپاس کی فصل سے بھرپور پےداوار کیلئے جدید سفارشات پر عمل کریں،مہر عابد حسین

datetime 14  مئی‬‮  2015 |

مظفرگڑھ (نیوز ڈیسک) کاشتکارکپاس کی فصل سے بھرپور پےداوار کے حصول کےلئے بی ٹی اقسام کی ٹیکنالوجی کو سمجھیںاور جدید سفارشات پر عمل کریں۔کپاس کی بی ٹی اقسام کی کھاد، پانی کی ضرورےات اور کےڑوں کا حملہ نان بی ٹی اقسام سے ےکسر مختلف ہے۔ ٹیکنالوجی سے عدم واقفیت اور سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے پےداوار کم ہے۔ان خےالات کا اظہار مہرعابد حسین ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت توسیع مظفر گڑھ نے کاشتکاروں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
مہر عابد حسین نے کہا کہ کاشتکار کپاس کی فصل سے بہترین پےداوار کے حصول کےلئے ابھی سے جامع حکمت عملی مرتب کریں۔ ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت نے کہا کہ کپاس کی بہتر اور منافع بخش پیداوار کا راز کاشت کی اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ کھیت میں ناغوں کو پر کرنا، بروقت چھدرائی و پودوں کی مطلوبہ تعدادحاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔کپاس کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کےلئے قطاروں میں پودوں کا آپس میں درمیانی فاصلہ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ پودے جگہ کی مناسبت سے بڑھوتری کریں۔
انہوں نے کہا کہ چھدرائی کا عمل بوائی سے 25-20 دن کے اندر یا پہلے پانی سے پہلے یا خشک گوڈی کے بعد ہر حالت میں ایک ہی دفعہ مکمل کریں۔ چھدرائی کے عمل کے دوران ایک جگہ پر ایک صحتمند پودا چھوڑ کر کمزور، بیماری سے متاثرہ اور فالتو پودے نکال دیں۔ درمیانی کاشتہ فصل میں پودے سے پودے کا فاصلہ 9 سے 12 انچ، کھیلیوں سے کھیلیوں کا فاصلہ 2 فٹ 6 انچ جبکہ پودوں کی تعداد 17500 سے 23000 فی ایکڑ رکھیں۔کپاس کی پچھیت کاشتہ فصل میں ایک ایکڑ میں پودوں کی تعداد 23000 سے 35000 رکھیں اور پودوں کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کےلئے پودے سے پودے کا فاصلہ 6 سے 9 انچ رکھیں ۔بی ٹی اقسام کو اگر لائنوں میں کاشت کیاہے تو پہلی آبپاشی بوائی کے 30 تا 35 دن بعد جب کہ بقیہ آبپاشیاں 12 تا 15 دن کے وقفہ سے کریں۔ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں بوائی کے بعد پہلا پانی 2 تا 3 دن بعد اور بقیہ 6 تا 9 دن کے وقفہ سے لگائیں۔ پودے کو پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہونے پر فصل کی آبپاشی کریں ۔ڈرل سے لائنوں میں کاشت کی گئی روایتی کپاس کو پہلی آبپاشی بوائی کے 30 تا40 دن بعد اس کے بعد ہر آبپاشی 12 تا 15 دن کے وقفہ سے کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…