عالم عرب جو مشرق وسطی (ایشیاء) اور افریقہ کے مسلم ممالک پر مشتمل ہے گذشتہ دس برسوں سے ایک ایسے بحران اور تباہی کے دور سے گذررہا ہے جس کی مثال دوسری عالمی جنگ (سلطنت عثمانیہ کے زوال ) کے بعد سے نہیں ملتی ۔
عراق کی تباہی کے بعد شام‘ لیبیا‘مصر‘یمن اور تیونس کے حالات نے امت مسلمہ کو ایسے حالات سے دوچار کردیا ہے جس سے سنبھلنے سے زیادہ اس سے باہر نکلنے میں ہی نہ جانے کتنے برس لگ جائیں گے ۔ تیل کیلئے زبردستی مسلط کی گئی جنگوں کے بعد اب انقلاب اور تبدیلی کے نام پر یا پھر اسلام پسندی کے نام پر ان ممالک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس سے صرف اور صرف مسلمان ہی تباہ و برباد ہورہے ہیں ۔ ان جنگوں اور آپسی لڑائیوں کی وجہ سے مغربی ممالک کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا کاروبار خوب چل رہا ہے ۔ جتنی بڑی تعداد میں اس وقت مسلمان مشرق وسطی میں بے گھر اور بے یار و مددگار ہیں اس کی کوئی مثال شائد ہی ماضی میں موجود ہو ۔ صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے اس انسانی بحران سے نمٹنے میں بے بسی ظاہر کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیااس انسانی بحران سے عرب ممالک نمٹ نہیں سکتے ۔ کیا ان عربوں کے پاس اتنی دولت نہیں ہے جس کو وہ امداد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان لاکھوں بھوکے اور بے سہارا افراد کا پیٹ بھر سکیں جو اپنے اپنے ملکوں سے جنگوں اورآ پسی لڑائیوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان میں کئی معصوم بچے‘بزرگ ‘خواتین بھی ہیں جو انتہائی نامساعد حالات میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ ہر لمحہ موت ان کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ گذشتہ دنوں امریکہ سے شائع ہونے و الے ایک بزنس میگزین ’’فوربس‘‘ نے سال 2015 کیلئے دنیا کے دولت مند افراد کی نئی فہرست جاری کی ان میں 11 ممالک کے 45 ایسے افراد ہیں جو عرب دنیا میں پیدا ہوئے اور اس وقت امریکہ اور مغربی ممالک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔
اس فہرست میں سعودی عرب کے 10 ایسے افراد کے نام شامل کئے گئے ہیں جن کے پاس 48 ارب ڈالر کی مجموعی دولت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ دولت مند افراد اپنے ممالک اور علاقہ کے حالات سے باخبر ہونے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتے ہیں۔ سعودی عرب کے 10 ارب پتی افراد کا تعلق 7 خاندانوں سے ہے جبکہ لبنان کے 9 ارب پتی 5 خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے ایک میکسیکو اور ایک برازیل میں مقیم ہے۔ کویت کے 5 ارب پتی ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں
جبکہ متحدہ عرب امارات کے دو خاندانوں کے 4 ارکان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ مراقش کے 3 ‘شام کے 2 ارب پتی بھی اس فہرست میں شامل کئے گئے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ شام کے یہ دو ارب پتی اپنے ملک کے حالات سے بے پرواہ فرانس اور برطانیہ میں عیش و عشرت کی زندگی گذار رہے ہیں۔ الجزائر ‘ عمان‘سوڈان اور اردن کا ایک ایک ارب پتی بھی اس فہرست میں شامل ہے ۔ ان سب کی مجموعی دولت 223 ارب ڈالر ہے ۔ عرب ممالک کے دولت مندوں میں سرفہرست 10 افراد کی مجموعی دولت 150 ارب ڈالر ہے ۔
فہرست میں سب سے اوپر لبنان کے کارلوس سلیم سب سے اوپر ہیں۔ کارلوس سلیم میکسیکو میں رہتے ہیں۔ 75 سالہ سلیم کی مجموعی دولت 77.1 ارب ڈالر ہے ۔ دوسرے نمبر پر سعودی عرب کے 59 سالہ شہزادہ ولید بن طلال ہیں جو 22.60 ارب ڈالر کے مالک ہیں وہ عالمی دولت مندوں میں 34 ویں نمبر پر ہیں۔ تیسرے نمبر پر لبنانی نژاد جوزف صفرا ہیں جو برازیل میں رہتے ہیں ان کی مجموعی دولت 17.30 ارب ڈالر ہے۔ چوتھے نمبر پر سعودی عرب کے محمد حسین العمودی ہیں ان کی جملہ دولت 10.80 ارب ڈالر ہے ان کا نمبر عالمی دولت مندوں میں 116 واں ہے ۔
متحدہ عرب امارات کے عبداللہ بن احمد العزیز 6.4 ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ عرب دولت مندوں میں ان کا پانچواں مقام ہے ۔ 54 سالہ نیف کاویرس ایک مصری ارب پتی ہیں ان کی دولت 6.3 ارب ڈالر ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے ماجد العظیم 6.2 ارب ڈالر کے مالک ہیں ان کا ساتواں مقام ہے ۔ سعودی عرب کے دولت مندوں میں شہزادہ سلطان بن محمد جو الکبیرال سعود کے مالک ہیں 8 ویں مقام پر ہیں ان کی مجموعی دولت 4.1 ارب ڈالر ہے ۔
مصر کے محمد منصور کے پاس 4 ارب ڈالر کی دولت ہے اور وہ نویں مقام پر ہیں۔ محمد ابرہیم العیسی بھی سعودی عرب میں رہتے ہیں ان کے پاس 3.5 ارب ڈالر کی دولت ہے ۔ فوربس میگزین نے عرب ممالک کے دوسرے درجے کے دس امراء کی مجموعی دولت 39 ارب ڈالر بتائی ہے ۔ ان دس امراء میں یو ای اے سیف العزیز (3.4 ارب ڈالر) لبنان کے سابق وزیر اعظم نجیب میقاتی (3.3ارب ڈالر) الجزائر کے اسعد ابراب (3.1رب ڈالر )مصر کے نجیب ساویرس (2.9 ارب ڈالر)سعودی عرب کے صالح عبداللہ کامل( 2.8 ارب ڈالر )مصر کے یسین منصور (2.3ارب ڈالر ) مراقش کے عثمان‘ لبنان کے بہاالحریری کی دولت بھی 2.3 ارب ڈالر ہے ۔ نژاد سلیمان بن عبدالعزیز کے پاس 2.1ارب ڈالر کی دولت ہے ۔
مصر کے محمد الفائد (2 ارب ڈالر) انس ساویرس (1.8رب ڈالر) بھی دولت مندوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اسی فہرست میں ایک ارب ڈالر تک کے مزید افراد کے نام بھی شامل ہیں تاہم اتنے ارب پتی اور کروڑ پتی رکھنے کے باوجود سوال یہ ہے کہ عرب دنیا میں لاکھوں لوگ بدترین اور قابل رحم زندگی گذارنے پر کیوں مجبور ہورہے ہیں۔ کیوں اقوام متحدہ کو ان بے گھر انسانوں کی خوراک اور دیگر ضرورتوں کا بندوبست کرنے کیلئے مغربی ممالک کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑرہا ہے ۔ عرب دنیا کی 60 فیصد آبادی25 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہر چار نوجوانوں میں سے ایک بیروزگار ہے۔
جو لاکھوں لوگ خیموں کی بستیوں میں زندگی گذارنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں ان کے پاس نہ تو تعلیم حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ ہے نہ روزگار کا اسی لئے یہ نوجوان آسانی سے عسکری گروپوں کا شکار ہورہے ہیں جن کو مغرب اپنے مفادات کیلئے استعمال کررہا ہے ۔ اقوام متحدہ بار بار خبردار کررہا ہے کہ شام کی جنگ ایک ایسے انسانی بحران کوجنم دے رہی ہے جس کا حل کسی کے پاس نہیں ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ شامی بچوں کی پیدائش خیموں میں ہوئی ہے ۔ ان بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ ان پناہ گزین کیمپوں میں ایسے 20 لاکھ نوجوان ہیں جن کی عمر 18 سال سے کم ہے ۔
یہ کس ملک کے شہری کہلائیں گے! ان کی باز آبادکاری کی ذمہ داری کون لے گا‘ پناہ گزینوں کاسیلاب تھمتا نظر نہیںآرہا ہے کیونکہ صحرائے عرب کے کسی ملک میں بھی امن و سکون قائم نہیں ہے ۔ کسی افریقی ملک میں ایسا کوئی دن نہیں گذرتا جہاں دھماکے یا جھڑپیں نہ ہوتی ہوں مغرب کی کٹھ پتلی حکومتوں کے نمائندوں اور اسلام پسندوں کے درمیان لڑائی میں لاکھوں مسلمان چکی کی طرح پس رہے ہیں۔ صرف ایک اردن میں4لاکھ شامی پناہ گزین ہیں جن کی غربت اور حالات کااندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا اس بحران میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
عراق اور شام میں دولت اسلامیہ اور مقامی نوجوانوں کے درمیان لڑائی ختم ہوتی نظر نہیںآرہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ داعش کے ٹھکانوں پر امریکہ کی بمباری شروع ہونے کے بعد سے زائد از 50 ممالک کے 20 ہزار جنگجو عراق اور شام پہنچ کر داعش میں شامل ہوچکے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ اگرچہ عراقی فوج نے امریکہ آسٹریلیا‘ برطانیہ ‘فرانس اور دیگر ممالک کی فضائی و زمینی مدد کے بعدکچھ علاقے داعش سے حاصل کرلئے ہیں لیکن داعش کو پوری طرح سے شکست دینا اب بھی نا ممکن نظر آرہا ہے ۔ لیبیا میں باغیوں اور عالمی تائیدی حکومت کے درمیان پھر سے لڑائی شروع ہوگئی ہے اور وہاں دو حکومتیں قائم ہوگئی ہیں۔ یمن میں شیعہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت پر قبضہ کرلیا ہے ۔
مصر میں صدر السیسی کے اخوان کا خطرہ کم نہیں ہوا ہے ۔
اسرائیل کی غزہ کی ناکہ بندی جاری ہے اس طرح عرب ممالک کا کوئی بحران کوئی مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ امریکہ آگ لگا کر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے اور عرب ممالک میں کوئی ایسا نہیں ہے جو آگے بڑھ کر فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا کر مسئلہ یا مسائل کی یکسوئی کیلئے راہ ہموار کرسکے ۔ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی ) عالمی تنظیم اسلامی (او آئی سی ) سب ناکام ہوچکے ہیں۔ مشرق وسطی میں طاقت کے دو مرکز شیعہ۔ سنی کے طور پر ابھر رہے ہیں جبکہ شمالی عراق میں دولت اسلامیہ جیسی تنظیمیں پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگئی ہیں۔



















































