ہفتہ‬‮ ، 02 مئی‬‮‬‮ 2026 

انسان جسمانی طور پر سست رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟

datetime 20  ستمبر‬‮  2018 |

کینیڈا(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر تو آپ کو ہر وقت بیٹھے یا لیٹے رہنے کا دل کرتا ہے اور اٹھ کر کوئی کام کرنا ناگوار گزرتا ہے تو اب آپ کے پاس اس کا ٹھوس جواز موجود ہے کیونکہ انسانی دماغ جسمانی توانائی کو ضائع سے ہونے سے بچانے کے لیے پروگرام ہوا ہے۔ کم از کم ایک تحقیق میں تو یہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔ کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ انسانی ارتفاء

درحقیقت اس کاہلی جیسے رویے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ ہمارے آباﺅاجداد کو اس سے اپنی بقاءمیں مدد ملتی تھی۔ تحقیق کے مطابق غیرضروری طور پر جسمانی توانائی ضائع کرنا پرانے زمانے میں انسانوں کو شکاری جانوروں کے سامنے کمزور بنا دیتا تھا، تو وہ اپنی توانائی خوراک کی تلاش، شکار کرنے اور مخالفین سے لڑنے پر ہی خرچ کرتے تھے۔ ‘کاہل ہونا انتہائی ذہین ہونے کی نشانی’ اس تحقیق کے لیے نوجوان رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں اور انہیں ایک کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بٹھا کر انہیں  سمانی طور پر متحرک یا سست پڑے رہنے کی مختلف تصاویر دکھائیں۔ رضاکاروں کو ٹاسک دیا گیا کہ جسمانی طور پر متحرک افراد کی تصاویر کو ہر ممکن تیزی سے حرکت دیں جبکہ سست افراد کی تصاویر سے دور رہیں، اس تجربے کے دوران ان کے دماغی سگنل بھی ریکارڈ کیے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے دماغ کے لیے خود کو سست افراد کی تصاویر سے دور رکھنا بہت زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہمارا دماغ سست رہنے کی جانب کشش محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی توانائی کو بچانا انسانی بقاءکے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا مگر آج بھی جسمانی طور پر متحرک نہ ہونا ایک وبا بن چکا ہے جو متعدد امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشروں کو لوگوں کے اندر جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔

اس سے قبل ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایسی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جو لوگوں کو کچھ بھی کرنے سے روکتی ہیں یا دماغ کی خواہش ہوتی ہے کہ آپ کام نہ کریں۔ تاہم اس کا علاج اپنے دماغ کو بتدریج زیادہ کام کے لیے قائل کرلینا ہے۔ تحقیق کے مطابق فوری طور پر اپنی سستی سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں مگر اپنے کام یا محنت کو اس وقت تھوڑی دیر مزید کریں۔

جب اندر سے آواز آئے کہ بس بہت ہوچکا۔ محققین کے مطابق انسان کو جسمانی سستی سے نجات کے لیے ایک منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہمارا اپنا ذہن ہمیں شکست دے سکتا ہے تاہم اس مسئلے پر قابو پانا مشکل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بس 2 چیزوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی اپنے اقدامات اور ردعمل، آسان الفاظ میں ہم کیا کررہے ہیں اور ہم کیا سوچ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…