پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

پشاور اور درہ آدم خیل میں تیار ہونے والے اسلحے کی دنیا میں بہتر مارکیٹنگ کا منصوبہ،قانونی تحفظ بھی دیاجائے گا

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

پشاور (این این آئی)پشاور اور درہ آدم خیل میں تیار ہونے والے اسلحے کے کاروبار اور دنیا میں اس کی بہتر مارکیٹنگ کو قانونی کور دینے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام اسلحہ سازی کے صنعتی زون کے قیام کے لئے پشاور میں اراضی بھی حاصل کرلی گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پشاور اور درہ آدم خیل میں لگ بھگ 300 کے قریب اسلحہ ساز فیکٹریاں کام کررہی ہیں

جس سے 9 ہزار افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ یہ صنعت تقریبا 150 سال پرانی ہے یہاں ماہر کاریگر ہر قسم کا اسلحہ بنانے کی مہارت رکھتے ہیں جو نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سطح پر بھی مانگ رکھتا ہے۔ امریکا، لندن، آسٹریلیا اور خلیجی ممالک اس اسلحہ کے بڑے خریدار ہیں تاہم برآمدی عمل پیچیدا ہونے کے باعث ایکسپورٹرز یہاں کا رخ کم ہی کرتے ہیں۔آرمز زون بننے کے بعد یہ تمام فیکٹریاں ایک ہی جگہ منتقل ہوں گی اور اسلحہ خریدنے والے ممالک کو بہت سی آسانیاں ایک چھت تلے فراہم کی جاسکیں گی ٗقدیم طرز کی بندوقیں، شکار اور کھیل کے لئے استعمال ہونے والی رائفلز اور پستولیں، سب یہاں بنتی ہیں۔وفاقی حکومت اس مہارت سے بننے والے اسلحے کو دنیا بھر میں پہنچانے کیلئے پشاور کے نواحی علاقے متنی، درہ آدم خیل اور سابقہ خیبر ایجنسی اور موجودہ ضلع خیبر کے سنگم پر جدید طرز کا صنعتی زون بنارہی ہے ٗاسلحہ ساز صنعتی زون میں 200 یونٹس بنیں گے جس کی لاگت 3 سے 4 ارب روپے ہے۔150 ایکڑ رقبے پر پھیلے منصوبے کے لئے فنڈز آئندہ ماہ تک ملنے کی امید ہے جس کے بعد یہ منصوبہ 2 سال کے اندر مکمل ہوگا جس کے بعد اسی زون میں اسلحہ کی خرید و فروخت بھی ہوگی۔وفاق کے زیر انتظام شکار اور کھیلوں کے معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے پاکستان ہنٹنگ اینڈ سپورٹنگ آرمز ڈویلپمنٹ کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں مختلف ممالک سے سالانہ 10 سے 40 ارب روپے کا اسلحہ درآمد کیا جاتا ہے تاہم مجوزہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں تیار ہونے والے اسلحے کا معیار بہتر ہوگا جو ملک کے اندر اسلحے کی تمام ضروریات کو پورا کرسکے گا جس کے بعد بیرون ممالک سے اسلحہ منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ کافی حد تک ملکی سیکیورٹی اداروں کی ضرورت بھی پوری ہوسکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…