اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

پاکستانیوں کیلئے سب سے بڑی خوشخبری دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز، پہلا مرحلہ شروع کر دیا گیا

datetime 11  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان میں آبی ذخائر کی تعمیر کے لئے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اور حکومت کے عزم کی روشنی میں واپڈا نے دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا جلد از جلد آغاز کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرد یا ہے ۔ دیا مر بھاشا ڈیم کے مین ڈیم اورمتعلقہ سٹرکچرز کی تعمیر کے لئے بین الاقوامی اور مقامی تعمیراتی کمپنیوں کی پری کوالی فکیشن کا مرحلہ

شروع کر دیا گیا ہے ، جس کے تحت بین الاقوامی مسابقتی نیلامی (International Competative Bidding)کے ذریعے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں پر مشتمل پانچ جوائنٹ ونچرزنے آج واپڈا ہائوس میں اپنی پری کوالی فکیشن بڈز جمع کرائیں۔جوائنٹ ونچرز کی جانب سے جمع کرائی جانے والی پری کوالی فکیشن بڈزکی جانچ پڑتال بِڈنگ ڈاکومینٹس ، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے متعلقہ قواعد و ضوابط کی روشنی میں کی جائے گی۔دیا مر بھاشا ڈیم ایک کثیر المقاصد منصوبہ ہے، منصوبے کے مقاصد میں پانی کا ذخیرہ ، سیلاب سے بچائو اور بجلی کی پیداوارشامل ہیں ۔ یہ منصوبہ چلاس سے 40 کلو میٹر زیریں جانب دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ 272 میٹربلند آرسی سی (Roller Compacted Concrete) ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1 ملین ایکڑ فٹ ہے ۔ 4ہزار 500میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل منصوبے سے سالانہ 18ارب یونٹ سے زائد کم لاگت اور ماحول دوست بجلی قومی نظام کو مہیا کی جائے گی ۔ دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید 35سال کا اضافہ ہوگا ۔ دیا مر بھاشا ڈیم سے زیریں علاقوں میں واقع پن بجلی منصوبوں سے بجلی کی پیداوار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ ایک اندازے کے مطابق موجودہ پن بجلی گھروں بشمول تربیلا، غازی بروتھا، جناح اور چشمہ سے بجلی کی سالانہ پیداوار میں 2 ارب 50 کروڑ یونٹ اضافہ ہوگا ، جبکہ داسو ، پٹن اور تھا کوٹ جیسے مستقبل کے منصوبوں سے بھی بجلی کی سالانہ پیداوار میں مزید 7 ارب 50 کروڑ یونٹ اضافہ ہو جائے گا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…