بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پھل کی مکھی کے تدارک کےلیے تمام سٹیک ہولڈررز اپنا اپنا کردار ادا کریں،ڈاکٹر محمد انجم علی

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

مظفرگڑھ(نیوز ڈیسک)پھل کی مکھی کے تدارک کے لیے تمام سٹیک ہولڈررز اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ باغبان گلاسٹرا اور کیڑے سے متاثرہ پھل اکٹھا کرکے فوری تلف کریں اور آم ،امرود اور ترشاوہ پھلوں کے باغات میں میتھائل یوجینال اورپروٹین ہائیڈرولائیزیٹ کے جنسی پھندے لگائیں۔ان خےالات کا اظہار ڈاکٹرمحمد انجم علی ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع و تطبیقی تحقیق پنجاب نے ضلع مظفر گڑھ میں اپنے وزٹ کے دوارن کےا۔انہوں نے کہا کہ” پھل کی مکھی کے تدارک کی مہم” کے تحت باغبانوں کو پھل کی مکھی کے نقصانات سے آگاہی اور باغات کی بہتر دیکھ بھال بارے مہم شروع کی گئی ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے توسیعی آفیسران آم، ترشاوہ پھلوں اور امرود کے باغبانوں کو پھل کی مکھی کی پہچان، نقصان کی علامات اور تدارک بارے آگاہی فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھل کی مکھی پاکستانی پھلوںکی برآمدات میں اضافہ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔پاکستانی پھل با لخصوص آم، کنواور امرود وغیرہ اپنے مخصوص ذائقوں کی بدولت امریکہ، یورپ اور خلیجی ریاستوں میں بے حد پسند کیے جاتے ہیںلیکن بدقسمتی سے پچھلے چند سالوں سے ان پر پھل کی مکھی کا حملہ شدّت اختیار کر گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی پیداوار میں کمی اور کوالٹی خراب ہونے کی وجہ سے برآمدمیں مشکلات درپیش آئی ہیں ۔ڈاکٹر انجم علی نے کہا کہ محکمہ زراعت توسیع کے تحت ایک مﺅثر مہم کا آغاز کر دےا گےا ہے۔جس سے پھل کی مکھی کا تدارک اور پےداوار کے ساتھ ساتھ برآمد میں اضافہ ہو گا۔ جس سے ملکی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ #/s#

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…