ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

کن چیزوں کی درآمدات پر پابندی لگانے سے پاکستان 7ارب ڈالرتک بچا سکتا ہے؟معروف ماہر معاشیات نے حکومت کو آئی ایم ایف سے چھٹکارے کیلئے اہم مشورہ دیدیا

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) ماہر معاشیات ڈااکٹر اشفاق حسن نے کہا ہے کہ اگر لگژری گاڑیوں ، سیل فون ، پنیر اور پھلوں کی درآمدات پر ایک سال کی پابندی لگادی جائے تو 6 سے 7ارب ڈالر ہم بچا سکتے ہیں ، ہمیں آئی ایم ایف کے بغیر جیناہوگا ہمیں اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کاہا کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس میں فی الحال تو کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

تاہم نئی قائم کردہ ‘ای اے سی’ نے ملک کے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکانٹ خسارہ کو روکنے کے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اس اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور رہی کہ برآمدات کی کمی آور درآمدات میں ہوشربا اضافے سے پاکستانی معیشت میں ڈالر کی کمی ہے، جس کی وجہ سے روپے پر دباؤہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کم ہو رہا ہے۔اس حوالے سے اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن اشفاق حسن خان نے بتایا کہ جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں غیر روایتی تجاویز پیش کیں جس سے درآمدات کو کم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مجھے کوئی ایسا رکن نظر نہیں آیا جس نے یہ کہا ہو کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور حل نہیں، لہذا ہمیں کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کچھ نہ کرنا ناقابل قبول ہے۔خیال رہے کہ ای اے سی اجلاس پر اسد عمر کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم حال ہی میں سینیٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو مالیاتی ضروریات کے لیے 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کے پاس جانا آخری آپشن ہوگا۔اشفاق حسن خان نے بتایا کہ اجلاس میں بنیادی اقدامات جیسے غیر ملکی چیز، کاریں، موبائل فونز اور پھلوں پر ایک سال کی طویل پابندی لگانے سے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور بتایا گیا کہ ان اقدامات سے ہم 4 سے 5 ارب ڈالر تک بچا سکتے ہیں اور ہماری برآمدات کو بھی 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ملک میں باہر سے کتنا چیز آرہا ہے اور مارکیٹ درآمدی چیز سے بھری ہوئی ہیں، ایسے وقت میں جب ملک کے پاس ڈالرز نہیں ہیں تو کیا ایسی چیز کی درآمدات کی ضرورت ہے؟واضح رہے کہ گزشتہ برس سابق حکومت نے چیز، ہائی ہارس پاور کاروں سمیت 240 درآمدی اشیا پر 50 فیصد تک ٹیرف بڑھایا تھا اور درجنوں نئی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کی تھیں لیکن کوئی درآمدی پابندیاں نہیں لگائی گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…