اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

عمران حکومت کا امریکی وزیر خارجہ اور وفد کو (ن) لیگی حکومت کی طرز کا پروٹو کول ،شاہد خاقان عباسی کے برعکس عمران خان کے امریکی وزیرخارجہ اور جنرل کے ساتھ رویئے نے سب کو چونکادیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان کے دوران نئی حکومت نے وہی پروٹوکول انہیں دیا جو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت کے دوران سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے گزشتہ سال اکتوبر میں ہونیوالے دورے میں دیا گیا تھا، ایئرپورٹ پر سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن اور موجودہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا استقبال وزارت خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکرٹری نے کیا

جبکہ وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جبکہ شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کے دور میں سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن 24اکتوبر کو جب پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو ان کی سابق وزیراعظم سے ملاقات کے دوران سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے تاہم سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بہت گرمجوشی سے سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن سے ہاتھ ملایا تھا اور کافی دیر تک وہ ان سے ہاتھ ملاتے رہے جسکی ویڈیو ریکارڈ پر موجود ہے ۔ بعد ازاں اس وقت کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا سابق امریکی وزیر خارجہ سے تعارف کرایا تھا ۔ شاہد خاقان سے ہونے والی ملاقات میں سابق وزیر دفاع خرم دستگیر ، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل بھی موجود تھے جبکہ وزیراعظم عمران خان سے ہونیو الی ملاقات میں عمران خان نے امریکی وزیر خارجہ پومپیو سے زیادہ گرمجوشی سے ہاتھ نہیں ملایا اور شاہد خاقان عباسی کی طرح سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن کے سامنے بیٹھنے کی بجائے وزیراعظم عمران خان مرکزی کرسی پر بیٹھے جو وزیراعظم کیلئے مختص ہے جبکہ ان کے دائیں طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ،

امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اور امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کی طرف سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی موجود تھیں ۔ وزیراعظم عمران خان جب امریکی وزیر خارجہ سے ہاتھ ملا کر اپنی نشست پر بیٹھنے لگے تو دوسری طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کی توجہ دلائی کہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ سے بھی ہاتھ ملائیں جس پر عمران خان نے ان سے بھی ہاتھ ملایا اور اپنی نشست پر بیٹھ کر بات چیت شروع کردی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…