بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایسی غذائیں جنھیں کچا کھانے سے گریز کی جائے

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں روزمرہ میں بیشتر افراد کچی یا خام حالت میں یعنی بغیر پکائے کھالیتے ہیں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ چند پسندیدہ غذائیں ایسی ہیں جنھیں خام حالت یا کچا کھانا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے یا ان کو پکا کر کھانا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے؟ یہاں ایسی غذاﺅں کے بارے میں جانیں جن کو کچا کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔

کیونکہ یہ سردرد، تھکاوٹ، دل متلانے اور فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتی ہیں جبکہ کچھ غذائیں ایسی ہیں جنھیں کچا کھانا نقصان دہ تو نہیں مگر جسم کے لیے ان کا فائدہ ضرور کم ہوجاتا ہے۔  8 غذائیں جنھیں مائیکرو ویو سے دور رکھیں آلو آلو تو ایسی چیز ہے جس متعدد پکوانوں کا حصہ بنایا جاتا ہے جبکہ ویسے بھی لوگ ابال کر یا تل کر بہت شوق سے کھاتے ہیں، مگر اسے کبھی کچا نہ کھائیں۔ کچے آلو میں زہریلا مواد موجود ہوتا ہے جو کہ پیٹ پھولنے، فوڈ پوائزننگ اور دیگر پیٹ کے امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ زیتون کچے یتون کو کھانا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو جان لیوا فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ مشروم ویسے تو پاکستان میں لوگ مشروم اتنے شوق سے نہیں کھاتے مگر جب بھی کھائیں تو انہیں پکا ، ابال کر یا بھون کر ہی کھائیں کیونکہ اس طرح یہ زیادہ پوٹاشیم جسم کا حصہ بناکر صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ دودھ کچے دودھ میں بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو پیٹ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں، لہذا دودھ کو پینے سے قبل اچھی طرح ابال لیں تاکہ اس میں موجود ای کولی اور دیگر بیکٹریا کا خاتمہ ہوجائے۔ بینگن کچے یا ادھ پکے بینگن جسم میں جاکر کیلشیم کے جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں، جس کی وجہ ان میں موجود ایک کمپاﺅنڈ سولانائن ہے، یہ کمپاﺅنڈ قے، پیٹ میں درد اور غشی جیسے مسائل کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔

ناقابل استعمال غذاؤں کی شناخت کرنا سیکھیں انڈے دنیا بھر میں ناشتے کے لیے پسند کیے جانے والے انڈے بھی فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتے ہیں جس کی وجہ ان میں پائے جانے والے Salmonella بیکٹریا ہیں، لہذا انڈوں کو ٹھیک طرح سے پکانا ہی بیماری سے بچنے کی کنجی ہے، ایسی چیزیں کھانے سے بچیں جن میں کچے انڈوں کا استعمال ہوا ہو یا ان کا بہت کم استعمال کریں۔

گاجر گاجر کو کچا کھانا نقصان دہ تو نہیں مگر پکی ہوئی گاجر صحت کے لیے زیادہ مند ہوتی ہے۔ گاجر میں بیٹا کیروٹین نامی جز ہے، جو جسم میں جاکر وٹامن اے کی شکل اختیار کرتا ہے، کچی گاجر کے مقابلے میں اسے پکانے کے بعد یہ جز جسم کے لیے زیادہ غذائیت سے بھرپور اور فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔اس سے بینائی بہتر، ہڈیاںمضبوط اور جسمانی دفاعی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…