بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

حجامہ سنت طریقہ علاج کے ذریعے 200سے زائد بیماریوں کا کامیابی کیساتھ علاج ،جانتے ہیں یہ کس ملک کا قومی طریقہ علاج بھی ہے؟

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)حجامہ سنّت طریقہ علاج ہے جس کے ذریعے 200سے زائد بیماریوں کا علاج بڑی کامیابی سے کیا جا رہا ہے حجامہ ہمسایہ ملک چین کا قومی طریقہ علاج بھی ہے ، حجامہ میں عطائیت نہیں ہو سکتی، حجامہ کرنے والے معالج کو اناٹومی و فزیالوجی کا علم ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ جسم کے بعض مقامات پر نروز جلد کی سطح کے بالکل قریب آ جاتے ہیں جن کو کٹ لگنے سے ساری عمر کی معذوری ہو جاتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار میڈیکل حجامہ تھراپسٹ ڈاکٹر بلال احمد

گولڈ میڈلسٹ نے پناسیہ ہیلتھ کئیر سسٹم اینڈ ریسرچ سنٹر لاہورکے زیر اہتمام حجامہ کی افادیت کے حوالے سے منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈاکٹر محمد افضل میؤ اور حاجی محمد انور بھی موجود تھے انہوں نے بتایا کہ حجامہ سنّت طریقہ علاج سے بلڈ پریشر ، ٹینشن ، جوڑوں اور پٹھوں کا درد ، ہڈیوں کا درد ، گھٹنوں کا درد ، سر درد ، مائیگرین ، معدہ کی بیماریوں   جیسے موذی او ر خطر ناک امراض میں مبتلا ہزاروں مریض اس مبارک طریقہ علاج شفاء یاب ہو چکے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…