ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سینیٹر فیصل جاوید نے عمران خان کو پاکستان ڈکلیئر کر دیا، کسی حکومت کا دس دن میں اتنا غیر مقبول ہو جانا یہ ورلڈ ریکارڈ ہو گا،حکومت گیارہ دنوں میں اس لیول پر کیوں اور کیسے آ گئی ؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 29  اگست‬‮  2018 |

میں نے اپنی پروفیشنل لائف میں آج تک کسی حکومت کو صرف گیارہ دنوں میں اتنی غلطیاں کرتے اور عوام کی طرف سے اتنے خوفناک ردعمل کا سامنا کرتے نہیں دیکھا‘ کسی حکومت کا دس دن میں اتنا غیر مقبول ہو جانا یہ ورلڈ ریکارڈ ہو گا‘ کل پنجاب کے وزیراعلیٰ اپنی فیملی کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر اپنے سسر سے ملاقات کیلئے میاں چنوں تشریف لے گئے تھے‘ ان کے استقبال کیلئے پروٹوکول کی گاڑیاں لاہور سے گئی تھیں اور آج سندھ کے نئے گورنر عمران اسماعیل نے کوئٹہ میں کمال کر دیا‘

یہ یار محمد رند کے عشائیے میں شرکت کیلئے کوئٹہ گئے اور ان کے پروٹوکول میں 27 گاڑیاں تھیں‘ کوئٹہ کے ایک عام شہری نے اس استقبال کی موبائل فوٹیج بنائی‘ جس میں پروٹوکول کی گاڑیاں بھی ہیں اور سڑکیں بھی بند ہیں اور یہ اس پارٹی کے گورنر ہیں جو اس ملک میں تبدیلی لانا چاہتی تھی‘ آپ اس کو بھی چھوڑ دیجئے‘ آج پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے عمران خان کو پاکستان ڈکلیئر کر دیا، آپ ملاحظہ کیجئے عمران خان ہیں تو پاکستان ہے اور اگر عمران خان نہیں ہیں تو نعوذ باللہ پاکستان بھی نہیں ہے‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کو تکبر کے اس لیول تک آنے میں تیس تیس سال لگے تھے لیکن عوامی حکومت کے عہدیدار اور ترجمان گیارہ دنوں میں وہاں پہنچ گئے تاہم میں فیصل جاوید کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں عوام نے عمران خان کے نام پر بے شمار کھمبوں کو ووٹ دیا اور وہ کھمبے اب حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ حکومت گیارہ دنوں میں اس لیول پر کیوں اور کیسے آ گئی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا جبکہ حکومت کے ایک ایم این اے کو عمران خان کی سادگی پسند نہیں آئی‘ لیکن میں آپ کو یہ بتاتا چلوں یہ کھمبے نہیں ہیں اور عوام نے انہیں عمران خان کی محبت میں ووٹ نہیں دیئے‘ یہ خود جیتے اور سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری کا بیان حلفی مسترد کر کے ان اور ان سے متعلقہ تمام لوگوں کی پراپرٹیز اور اکاؤنٹس کی دس سال کی تفصیل مانگ لی اور یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب اومنی گروپ کے جعلی اکاؤنٹس کی تعداد 29 سے33 اور منی لانڈرنگ35 سے 44 ارب تک پہنچ گئی ہے‘ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…