ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

شیخ رشید اور چیف کمرشل منیجر ریلوے حنیف گل / خاور مانیکا اورکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کے تنازعات ،اصل میں ہوا کیا؟عمران خان کو سب سے بڑا خطرہ کس سے ہے؟صدر کون منتخب ہوگا؟اپوزیشن متحد کیوں نہیں ہورہی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ، حیرت انگیز انکشافات‎

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

صدر ایوب خان جب صرف کمانڈران چیف تھے تو وہ چین سموکر ہوتے تھے‘ صبح اٹھتے وقت انہیں سگریٹ چاہیے ہوتا تھا‘وہ دن میں دو پیکٹ پیتے تھے‘ ایک صبح ان کا اردلی سگریٹ نہ لا سکا ‘ایوب خان نے اسے گدھا کہہ دیا‘ اردلی بنگالی تھا اور عزت نفس کا مالک تھا، اس نے ایوب خان کو پلٹ کر جواب دیا‘ صاحب آپ اگر اپنی زبان کنٹرول نہیں کر سکتے تو اتنی بڑی آرمی کیسے کنٹرول کریں گے‘ یہ بات سیدھی ایوب خان کے دل میں لگی‘

انہوں نے اس کے بعد پوری زندگی سگریٹ پیا اور نہ کسی کو برا بھلا کہا‘ وہ یحییٰ خان‘ شیخ مجیب الرحمن اور بھٹو جیسے مخالفین کا ذکر بھی آپ‘ جناب اور صاحب کے ساتھ کرتے تھے۔ گورننس اور مینجمنٹ دونوں کا تعلق زبان کے ساتھ ہوتا ہے‘ آپ دوسروں کے ساتھ کس طرح بی ہیو اور کس طرح کمیونی کیٹ کرتے ہیں گورننس کا تعلق اس کے ساتھ ہوتا ہے‘ آپ اگر بی ہیوئیر یا کمیونی کیشن میں مار کھا جاتے ہیں تو آپ مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں خواہ آپ کتنے ہی سقراط یا کتنے ہی خلیفہ ہارون الرشید کیوں نہ ہوں اور ہماری نئی حکومت کو بار بار یہ چیلنج فیس کرنا پڑ رہا ہے‘ کل لاہور میں وزیر ریلوے شیخ رشید کو ریلوے کے چیف کمرشل منیجر کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا‘ شیخ رشید نے سی پیک کے کوآرڈی نیٹر اشفاق خٹک کو کہا‘ آپ مجھے رضیہ بٹ کے ناول نہ سنائیں‘ اشفاق خٹک وائس چانسلر رہے ہیں‘ یہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈگری ہولڈر ہیں‘ چیف کمرشل منیجر حنیف گل نے شیخ رشید کو ٹوکا ‘ سر آپ کو سینئر لوگوں کے ساتھ عزت سے بات کرنی چاہیے‘ شیخ رشید نے انہیں شٹ اپ کہہ دیا‘ جواب میں حنیف گل نے وزیر کو شٹ اپ کہہ دیا اور دو سال کی چھٹی اپلائی کر دی‘ حنیف گل بھی ایم آئی ٹی اور برمنگھم یونیورسٹی کا انتہائی پڑھا لکھا 20ویں گریڈ کا افسر ہے‘ یہ بیس سال سے ریلوے میں ہے اور اس نے سی پیک کیلئے بھی ریلوے کا پراجیکٹ بنایا تھا‘ یہ ریلوے میں ہو رہا ہے‘ آج وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کا تبادلہ کر دیا گیا‘

ان کا جرم یہ تھا پولیس نے پیر غنی روڈ کے ناکے پر خاتون اول کے سابق خاوند خاور مانیکا کی گاڑی روکنے کی غلطی کر دی تھی‘ رضوان گوندل کو مانیکا صاحب کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کا حکم دیا گیا‘ انہوں نے انکار کر دیا تو ان کا تبادلہ کر دیا گیا‘ یہ دو واقعات حکومت کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں‘ کیا یہ لوگ اس طریقے سے سسٹم چلا سکیں گے‘ میرا خیال ہے نہیں‘ وزیراعظم عمران خان کو اپنے لوگوں کو روکنا ہوگا ورنہ حکومت 22 سال کی عزت 22 دنوں میں ضائع کر بیٹھے گی‘ ایسا کیوں ہو رہا ہے‘ یہ ہمارا آج کاایشو ہوگا جبکہ اپوزیشن نے خود کو متحدہ ثابت کرنے کا تیسرا موقع بھی ضائع کر دیا‘ یہ متفقہ صدارتی امیدوار پر متفق نہ ہو سکی‘ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن جبکہ باقی آدھی اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمن کو صدارتی امیدوار بنا دیا‘ متحدہ اپوزیشن متحد کیوں نہیں ہو رہی؟ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…