منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ صاحب! آپ جس ٹرین میں فخر سے سفر کر رہے ہیں یہ سارا نظام میری ہی۔۔خواجہ سعد رفیق نے ٹرین میں سفر پر شیخ رشید کو ایسی بات کہہ دی کہ وفاقی وزیر ریلوے بھی ہکا بکا رہ گئے

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے وزیر ریلوے شیخ رشید کے ٹرین میں سفر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جس ٹرین میں وہ نہایت فخر سے سفر کر رہے ہیں، یہ سارا ریلوے نظام ان ہی کے مرہونِ منت ہے۔لیگی رہنما اور سابق وزیر ریلوے سعد رفیق نے شیخ رشید کی ٹرین میں سفر کے دوران بنائی گئی ویڈیو فیس بک پر شیئر کی اور

انہیں یاد دہانی کروائی کہ جس ٹرین میں وہ نہایت فخر سے سفر کر رہے ہیں، یہ سارا ریلوے نظام ان ہی کے مرہونِ منت ہے۔سعد رفیق نے لکھا کہ جناب شیخ رشید احمد! یاد رکھیے گا کہ ہم نے آپ کے حوالے ایک ایسی ریلوے کی ہے جس میں وزیر بنتے ہی آپ نے سفر کرتے ہوئے اپنی ویڈیو بنا کے فخریہ طور پر اپ لوڈ کی ہے۔ ہمارا، آپ کا اور پوری قوم کا یہ فخر برقرار رہنا چاہیے۔سابق وزیر ریلوے نے اپنے دور میں ہونے والی ریلوے کی آمدن پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ وہ ریلوے ہے جس کی آمدن 18ارب تھی اور 5برسوں میں اس میں ساڑھے 32ارب کا اضافہ ہوا، یعنی ہر برس اوسطاً ساڑھے 6ارب روپے کا اضافہ۔سعد رفیق نے کہا کہ ایک سرکاری ادارے کی آمدن میں یہ ریکارڈ اضافہ ہماری محنت، دیانت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ساتھ ہی انہوں نے شیخ رشید کو مخاطب کرکے لکھا کہ آپ نے کہا کہ آدھا ریلوے نیب زدہ ہے مگر ہمارے دور کا ایک بھی ریفرنس نیب میں نہیں، سب پرانے گھپلے اور فراڈ ہیں۔سابق وزیر ریلوے نے شیخ رشید کو یہ بھی باور کروایا کہ ریلوے کے ملازمین کو ادارے کی نجکاری اور نیلامی کا کوئی خطرہ نہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ خطرہ ان سے دور ہی رہے گا۔سعد رفیق نے مزید لکھا کہ وہ ریلوے کی ترقی اور کامیابی چاہتے ہیں جو موجودہ وزیر ریلوے شیخ رشید کی بھی کامیابی ہوگی۔ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ یاد رکھیے گا کہ

قومی ادارے مخالفت برائے مخالفت کی منفی سیاست کے اکھاڑے نہیں ہوتے اور یہ کہ جدت کا سفر طے کرتا ریلوے اگر دوبارہ تباہ ہوا تو قوم اور تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔سعد رفیق نے اس مرتبہ 14اگست پر آزادی ٹرین کے نہ چلنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ دکھ اور افسوس یہ ہے کہ میرے وزارت چھوڑنے کے بعد اس برس اگست میں آزادی ٹرین نہیں چلی۔

آزادی ٹرین ہماری وطن سے محبت، یکجہتی اور حب الوطنی کی علامت بنی، اس نے دور دراز کے علاقوں تک وطن سے پیار کی خوشبو پہنچائی، کاش یہ ٹرین کسی سیاسی اور ذاتی تنازع کا شکار ہوئے بغیر چلتی رہے کہ وطن اور اس سے محبت تو ہم سب کی سانجھی ہے۔اور آخر میں سعد رفیق نے ریلوے کی باگ دوڑ سنبھالنے والے شیخ رشید کو ’’گڈ لک‘‘کہتے ہوئے لکھا کہ واضح سیاسی اور نظریاتی اختلاف کے باوجود وہ ہر قومی ادارے بالخصوص پاکستان ریلوے کی مزید ترقی اور جدت کے لیے دعاگو ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…