منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر پاکستانیوں کے بیرونِ ملک اکاؤنٹس تک رسائی کیلئے تیار

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ادارہ برائے اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) کے کثیرالجہتی کنونشن کے دستخط کنندہ ہونے کے باعث پاکستان کی آئندہ ماہ سے اپنے شہریوں کے بیرونِ ملک مالی اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی ہوجائے گی۔  رپورٹ کے مطابق ڈان کو موصول ہونے والے ریکارڈ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بیرنِ ملک موجود پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس

تک یکم ستمبر سے رسائی حاصل ہونا شروع ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ یہ رسائی ان ممالک تک ہوسکے گی جو اس معاہدے کے دستخط کنندہ ہیں۔ زرمبادلہ کو بہتر بنانے اور اسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق لانے کے لیے پروٹیکشن ریفارم ایکٹ 1992 میں ضروری ترامیم کی جاچکی ہیں۔ مذکورہ ترامیم کے مطابق جہاں بھی ترسیلات کا مجموعہ ایک کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گا وہاں ایف بی آر انکوائری کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک اثاثوں اور آمدن کی تحقیقات کے لیے 5 سال کی حد کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی ایمنسٹی اسکیم کا ردِعمل مثبت آیا ہے، جس کی نہ صرف پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے بلکہ یہ دنیا کی ایک کامیاب ترین اسکیموں میں سے ایک ہے۔ حکومتی ایمنسٹی اسکیم میں 82 ہزار 4 سو 43 افراد نے اپنے اثاثے ظاہر کیے جس میں سے بیرونِ ملک اثاثون کی مالیت 10 کھرب 9 ارب روپے جبکہ مقامی اثاثوں کی مالیت 14 کھرب 74 ارب روپے ہے، تاہم کل مالیت 24 کھرب 80 ارب روپے ہے۔ اسکیم کے دوران ایک کھرب 23 ارب روپے کے ٹیکس ادا ہوئے جن میں سے 46 ارب روپے بیرونِ ملک اثاثوں جبکہ 77 ارب روپے مقامی اثاثوں کے ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے۔ ڈالر کی شکل میں موصول ہونے والے ٹیکس میں سے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کو روپے میں جبکہ 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کو بانڈز میں تبدیل کردیا گیا اور 8 ڈالر کے ٹیکس پر آگے کارروائی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ بیرونِ ملک اثاثوں کے حوالے سے دی گئی ایمنسٹی اسکیم منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد پر لاگو تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…