بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

دوپہر کو طاری ہونے والی غنودگی بھگانے میں مددگار ٹپس

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

آسٹریلیا (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ رات بھر 8 گھنٹے کی نیند، صبح کی متحرک سرگرمیاں اور دوپہر کے صحت بخش کھانے کے بعد اچانک طبیعت سست اور غنودگی چھانے لگتی ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان دن میں 2 بار نیند لینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ دعویٰ کچھ عرصے قبل آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا تھا۔

ایڈیلیڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق دوپہر کے کھانے کے بعد سستی اور غنودگی کا احساس فطری ہے کیونکہ انسان دن میں 2 نیندیں لینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاہم اکثر ایسا جسمانی توانائی میں کمی کا نتیجہ ہوتا ہے اور چند آسان ٹرکس سے آپ خود کو دوبارہ ری چارج کرسکتے ہیں۔ باہر نکل کر دھوپ کا مزہ لیں دوپہر کے کھانے کے بعد سستی طاری ہورہی ہو تو کچھ دیر کے لیے چار دیواری سے باہر نکل کر دھوپ میں چہل قدمی کریں، اس سے جسمانی گھڑی ری سیٹ ہوجائے گی جبکہ نیند کا باعث بننے والے ہارمون میلاٹونین بننے کا عمل سست ہوجائے گا، دھوپ سے جسم کو فائدہ مند وٹامن ڈی بھی حاصل ہوتا ہے جو کہ ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ کم کرتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں پروٹین کو ترجیح دیں دوپہر کے کھانے میں چکن یا سرخ گوشت یا پروٹین سے بھرپور غذا کو ترجیح دیں، انڈا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ چائے کا مزہ لیں کھانے کے بعد چائے پینے کا خیال اچھا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں موجود کیفین کی معمولی مقدار ذہنی چوکنا پن بڑھاتی ہے اور غنودگی دور کرتی ہے۔ چیونگم سے مدد لیں منٹ فلیور والی چیونگم دماغ کو متحرک کرتی ہے اور چیونگم کو چبانا بھی دماغ کے لیے سستی بھگانے کا ٹونک ثابت ہوتا ہے۔ اور ہاں چیونگم چبانے سے لعاب دہن کی مقدار بڑھتی ہے جو مسوڑوں کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔جسمانی طور پر متحرک رہیں مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلکی جسمانی سرگرمیاں کچھ وقفے کے بعد کرنا بھی ذہنی طور پر الرٹ کرنے کے ساتھ جسمانی فٹنس بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ تو بیٹھ کر باتیں کرنے کے بجائے کچھ وقت کے لیے اٹھ جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…