’’ ایک سر کٹا بھوت اکثر آدھی رات کے وقت گاؤں کی شہر کو جاتی بڑی سڑک پر دکھائی دیتا اور آنے جانے والوں کو نقصان پہنچایا کرتا تھا‘ اگر وہ دکھائی نہ بھی دے تو رات بھر گاؤں والے اس کے رونے کی آواز سن سن کر خوف زدہ رہتے تھے‘ تب گاؤں کے چند جوانوں نے اس بھوت کا کھوج لگانے کی ٹھانی۔۔۔‘‘
>انڈیا کے ضلع نینی تال میں ایک گاؤں ہے‘ ایمبروکا۔ اس گاؤں کی وجہ شہرت یوں تو پان کے پتے ہیں جنہیں بیشتر آبادی کاشت کرتی ہے اور پھر یہ پتے ملک بھر میں اور بیرون ملک سپلائی کئے جاتے ہیں لیکن کچھ عرصہ کے لیے اس کی شہرت ایک اور وجہ سے بھی ہوئی اور وہ ایک سر کٹا بھوت تھا جو اکثر آدھی رات کے وقت گاؤں کی شہر کو جاتی بڑی سڑک پر دکھائی دیتا تھا اور آنے جانے والوں کو نقصان پہنچایا کرتا تھا۔ اگر وہ دکھائی نہ بھی دے تو رات بھر گاؤں والے اس کے رونے کی آواز سن سن کر خوف زدہ رہتے تھے۔ تب گاؤں کے چند جوانوں نے اس بھوت کا کھوج لگانے کی ٹھانی اور ایک رات اکٹھے ہوکر اس طرف چل نکلے جدھر یہ بھوت اکثر دکھائی دیتا یا اس کی آواز آتی تھی۔
ان میں ایک نوجوان اوم تارا تھا جسے کالے جادو کی کچھ شد بد تھی اور وہی باقی جوانوں کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ اسی نے بعدازاں ایک اخبار کو اپنی کہانی سنائی۔وہ نوجوان ایک جگہ درخت کی اوٹ میں ہو کر بھوت کا انتظار کرنے لگے۔ رات گہری ہوگئی تو ان نوجوانوں کو فاصلے پر وہی آواز سنائی دی جیسے کوئی چیخ رہا ہو اور جیسے کوئی شدید تکلیف میں مبتلا ہو۔ تمام نوجوان چوکنے ہوگئے اور انتظار کرنے لگے کہ کیا واقعی بھوت ظاہر ہوتا ہے یا پوشیدہ رہتا ہے۔
آخر انھوں نے فاصلے پر ایک ہیولہ دیکھا جو آہستہ آہستہ ان کے قریب ہو رہا تھا اور اس بات میں بھی اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا تھا کہ آواز اسی ہیولے کی سمت سے ہی آرہی تھی اور یہی وہ بھوت تھا جس کے خوف نے سارے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ جب وہ ہیولہ قریب آیا تو نوجوان ایک دم سے کود کر سامنے آگئے اور اس ہیولے کی طرف بڑھے۔ یہ دیکھ کر ہیولہ ٹھٹھکا اور فوراً ہی معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگا کر واپس ہوگیا اور بھاگنے لگا لیکن نوجوان جانتے تھے کہ ایسا ہوسکتا تھا اس لیے انھوں نے اسے بھاگنے کی مہلت نہ دی اور جلد ہی اس جا لیا۔ تب انھوں نے دیکھا کہ وہ ان کے گاؤں ہی کا ایک کسان تھا اور اپنا سر چادر میں ڈھانپے ہوئے تھا۔ نوجوانوں کو جب اندازہ ہوا کہ یہ کوئی بھوت نہیں تھا بلکہ ان کا جانا پہچانا شخص تھا تو انھوں نے اسے زد و کوب کرنا شروع کیا‘ تب اپنی جان بچانے کے لیے وہ کسان گڑگڑایا کہ اسے معاف کردیا جائے اور تب اس نے انھیں بتایا کہ ایسا وہ اس لیے کرتا تھا کیوں کہ اس نے اپنے کھیتوں کو پانی دینا ہوتا تھا۔ یوں آوازیں نکالنے سے وہ لوگوں میں خوف پیدا کرنا چاہتا تھا تاکہ کوئی اس طرف نہ آئے اور نہ یہ دیکھ سکے کہ وہ کسی دوسرے کے کھیت میں سے پانی کاٹ کر اپنے کھیت میں لگا رہا ہے۔ یوں اس بھوت کا راز بستی والوں پر آشکارا ہوا۔
لیکن کیا واقعی بھوتوں کا وجود نہیں ہوتا؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ سب ایک لغو بات ہے اور بھوت جیسی کسی ہستی کا کوئی وجود نہیں ہوتا لیکن بھوتوں سے متعلق اتنی روایات لوگوں میں عام ہیں کہ اس مظہر کے بارے میں شک کی گنجائش زیادہ نہیں رہتی۔ دنیا بھر میں قریباً ہر قوم اور معاشرے میں بھوتوں کے بارے میں مسلمہ اعتقادات موجود ہیں اور اس حوالے سے ایسے شواہد بھی موجود ہیں جنھیں جھٹلانا آسان نہیں ہے۔ آئیے اس مظہر کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
دنیا بھر میں اور خاص طور پر یورپ میں سائنسی خطوط پر بہت کام ہوا ہے۔ اس حوالے سے ایک کتاب ’I remember The Tall Ships‘ کا ذکر کیا جا سکتا ہے جسے ایک معروف جہاز ران بروک سمتھ نے تحریر کیا تھا۔ بروک سمتھ کا تعلق نیوزی لینڈ کے معروف جہاز رانوں میں ہوتا تھا اور اس نے طویل عمر پائی اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ سمندر ہی میں گزارا۔ اس کتاب میں وہ ایک واقعہ بیان کرتا ہے جسے یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ 1920ء کی دہائی میں پیش آیا تھا۔ اس واقعہ میں بروک سمتھ ایک سائے کا ذکر کرتا ہے جو ایک رات جہاز Orowaitiکے ٹینکر پر چھا گیا تھا۔ ہوایوں کہ جہاز کے عملے کے ایک شخص نے خود کشی کرلی۔ بعدازاں اس شخص کے بھوت کو جہاز میں کئی جگہوں پر دیکھا گیا جس سے جہاز کے عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اکثر عملے کے اراکین کو تیز سنسناتی ہوئی آواز سنائی دیتی تھی لیکن مرے ہوئے شخص کا ہیولہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایک صبح چار بجے کے قریب بروک سمتھ جہاز کے جنگلے کے قریب کھڑا تھا کہ اسے کسی شخص کی سرگوشی سنائی دی جو اسی شخص کی آواز میں تھی جس نے کچھ عرصہ پہلے خود کشی کی تھی اور جس کے بھوت کے بارے میں عملے کے اراکین میں چہ میگوئیاں گردش کر رہی تھیں۔ سرگوشی سن کر بروک سمتھ بھاگتا ہوا سیڑھی سے نیچے اترا اور جہاز کے عرشے تک گیا۔ اس نے دیکھا کہ کالے کوے جیسی تاریکی ہر طرف چھائی ہوئی تھی اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ آگے فاصلے پر کچھ موجود تھا۔ بروک سمتھ لکھتا ہے کہ وہ اس تاریکی کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا اور غور سے سننے کی کوشش کرنے لگا۔ شروع میں اسے معمول کی چرچراہٹ کے سوا کوئی آواز سنائی نہیں دی جو تیز ہوا کے چلنے سے جہاز میں اکثر پیدا ہوتی ہے۔ تاہم وہ عرشے کے پچھلے حصے میں چلا گیا جہاں اسے پھر سے وہی پراسرار سرگوشی سنائی دی۔ اسے یہ تو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہا جا رہا تھا لیکن اتنا انداز ہوا کہ کوئی اسے کچھ بتانے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ آواز میں کرب کا احساس موجود تھا۔ بروک سمتھ نے آواز کے منبع کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا لیکن اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دیا بس ایک طرح کی شدید تاریکی ہر طرف چھائی ہوئی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ کسی شے کا سایہ سا جہاز کے ٹینکر پر چھایا ہوا تھا ۔ تاہم یہ واحد واقعہ نہیں تھا جو اسے پیش آیا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ بہت سال پہلے جب وہ جہاز میں ملازم نہیں ہوا تھا‘ اسے پیش آیا تھا اور اس نے اس واقعہ کو بھی اپنی کتاب میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب بروک سمتھ نیوزی لینڈ کے ایک شہر کرائسٹ چرچ میں ایک بینک میں ملازم تھا۔ اسے بینک ہی میں اوپر کی منزل میں ایک فلیٹ رہائش کے لیے ملاہوا تھا۔ بینک نے اسے ایک ریوالور بھی دیا ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ بینک کی حفاظت کرے اور اسے ڈاکوؤں کے ممکنہ حملے سے بچائے۔ اس حوالے سے اسے چوکنا رہنا پڑتا تھا۔بروک سمتھ نے ڈاکوؤں سے متوقع مقابلے کے پیش نظر ریوالور چلانے کی ریاضت بھی خود کو بہم پہنچائی تھی اور وہ ریوالور کو ہمیشہ اپنے پاس ہی رکھتا تھا خاص طور پر رات کو سوتے ہوئے وہ ریوالور اپنے سرہانے کے پاس ہی رکھتا تھا۔ ایک رات وہ کسی طرح کے کھڑاک کے نتیجے میں اچانک بیدار ہوا اور اس نے دیکھا کہ اس کا سانس پھولا ہوا تھا لیکن یہ دیکھ کر اس کی سٹی گم ہوگئی کہ اس کے بستر کے پاس سفید کپڑوں میں ملبوس ایک عورت عبادت کررہی تھی اور دعا مانگ رہی تھی۔ عورت کو دیکھ کر اس کے دماغ میں سے بچی کھچی نیند بھی رفع ہوگئی اور اس نے حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے فوراً یہ سوچا کہ یہ ڈاکوؤں ہی کی ساتھی کوئی عورت ہے۔ اس نے فوراً اپنے سرہانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور ریوالور اٹھا کر عورت کا نشانہ باندھا لیکن اتنی دیر میں عورت اچانک ہوا میں تحلیل ہو کر غائب ہوگئی۔ وہ فوراً ہی بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور فلیٹ میں ادھر ادھر بھاگا تاکہ اس عورت کا سراغ پا سکے لیکن اسے عورت کہیں بھی دکھائی نہیں دی اور نہ ہی وہ یہ جان سکا کہ عورت اس کی فلیٹ میں کہاں سے داخل ہوئی تھی کیوں کہ فلیٹ کے سبھی دروازے بند تھے اور کھڑکیاں بھی بندتھیں۔ نہ ہی کہیں کوئی نقب لگی ہوئی تھی کہ جس سے اندازہ ہوتا کہ عورت کس طرح فلیٹ کے اندر داخل ہوئی تھی۔ یہ سارا واقعہ اتنا حقیقی تھا کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی خود کو یقین نہیں دلا سکا کہ وہ عورت اس کا وہم تھی لیکن اس واقعہ کی کوئی توجیہہ وہ کبھی بھی تلاش نہیں کرسکا۔
بروک سمتھ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کی مانندبھوتوں وغیرہ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ صرف ایسے لوگوں کے بھوت دیکھیں جنہیں آپ نہیں جانتے بلکہ بہت سے واقعات ایسے بھی ہیں جن میں ایسے افراد کے بھوت دکھائی دیئے جو معروف تھے اور جنہیں لوگ جانتے تھے۔ یہاں ہم ابراہام لنکن کے بھوت کی مثال دے سکتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ امریکا کا عظیم سیاسی لیڈر اور صدر ابراہام لنکن اوہام پرست تھا اور بھوتوں وغیرہ پر بہت زیادہ یقین رکھتا تھا۔ اس کی سوانح عمری کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ اس کے مختلف مری ہوئی شخصیات کے بھوتوں سے رابطے بھی تھے جن سے وہ مختلف امور میں صلاح و مشورہ بھی کرتا تھا۔ یہ بھوت ہی اسے آنے والے زمانے کے متعلق مختلف معلومات فراہم کرتے تھے۔ مثلاً ابراہام لنکن سے متعلق اس کے باڈی گارڈ کا بیان ہے کہ اپنی موت سے کچھ روز پہلے لنکن نے اسے بتایا کہ اس نے رات کو ایک خواب دیکھا تھا جس میں اس نے دیکھا کہ ایک میت جا رہی تھی اور جب اس نے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کس کا تابوت ہے تو اسے بتایا گیا کہ امریکا کے صدر کا۔ یوں اسے اپنی موت سے پہلے ہی اپنے قتل کے بارے میں اطلاع ہوچکی تھی تاہم خود لنکن کے بھوت نے بھی بہت شہرت حاصل کی۔ امریکی صدر روزویلٹ نے ایک موقع پر اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نے ایک سے زائد موقعوں پر ابراہام لنکن کابھوت وہائٹ ہاؤس میں دیکھا تھا۔ کچھ ایسا ہی بیان وہائٹ ہاؤس کے سٹاف نے بھی دیا کہ انھوں نے ایک سے زائد مرتبہ ابراہام لنکن کابھوت وہائٹ ہاؤس کی کھڑکی میں دیکھا تھا اور ہمیشہ وہ اسی کھڑکی میں دیکھا گیا جس کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اپنی زندگی میں بھی لنکن اسی کھڑکی میں کھڑے ہو کر شہر کو دیکھا کرتا اور غور و فکر کرتا تھا۔ کچھ ایسا ہی بیان روحانیت میں گہری دلچسپی لینے والی ماہر عامل اور نیدر لینڈز کی ملکہ ولہ لمینا نے بھی دیا۔ اس کے بیان کے مطابق وہ ایک روز لنکن کے کمرے میں سونے کے لیے گئی تو رات کے کسی پہر اسے دروازے پر دستک سنائی دی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے لنکن کھڑا تھا لیکن فوراً ہی وہ منظر سے غائب ہوگیا اور ملکہ کو ایسا لگا کہ جیسے وہ نیند میں ہونے کی وجہ سے یہ ہیولہ دیکھ پائی تھی لیکن یہ واقعہ ملکہ ولہ لمینا ہی کے ساتھ پیش نہیں آیا بلکہ ایک بار ونسٹن چرچل بھی لنکن کے کمرے میں سونے کے لیے گیا تو اسے بھی وہاں کمرے میں لنکن کا بھوت ایک طرف کرسی میں بیٹھا دکھائی دیا۔ اس کے بعد سے لنکن کے کمرے کو آسیب زدہ قرار دے دیا گیا۔
یہی نہیں امریکی صدر ٹرومین کو بھی ایک سے زائد موقعوں پر لنکن کے بھوت کو دیکھنے کا اتفاق ہوا لیکن اس بات کو اس نے ایک نیک شگون ہی سمجھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ لنکن کا بھوت ملکی سیاست کے معاملات میں دلچسپی لیتا تھا اور اسی لیے ہر مشکل مرحلے پر وہ راہنمائی کرنے کے لیے وہاں آتا تھا اور اس کی موجودگی سے فائدہ اٹھا کر اس مشکل مرحلے سے نکلنے کے لیے کوئی مشورہ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ جان ایف کینیڈی اور اس کی سٹینوگرافر کو بھی ایک سے زائد موقعوں پر لنکن کا بھوت دکھائی دیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ امریکا کے ایک سے زائد صدور کو لنکن کا بھوت دکھائی دیا جس میں ظاہر ہے کچھ نہ کچھ صداقت تھی۔ کیوں کہ یہ سوچنا محال تھا کہ سبھی صدور توہم پرست تھے اور وہ جھوٹ بول رہے تھے یا ان سب کو نظری التباس سے واسطہ پڑا تھا اور نہ ہی آپ سب عظیم ہستیوں کی ذہنی صحت پر شک کرنے کے بارے میں سوچ سکتے تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک شخص کا بھوت کیوں دکھائی دیتا ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بے چین موت مرتا ہے اور اس کی کوئی خواہش پوری ہونے سے رہ جاتی ہے یا پھر بھوتوں کے دکھائی دینے میں بھی کوئی حکمت ہوسکتی ہے اور بھوت سوچنے سمجھنے والی مخلوق ہے اور وہ ان جگہوں اور افراد سے اپنا رابطہ نہیں توڑتے اور ان کے پاس آتے جاتے رہتے ہیں۔ بھوت اصل میں کسی ہونے والے واقعہ کی پیشین گوئی کی صورت میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یوں بھوت اپنا وجود کھو دیتے ہیں اور وہ کسی اعلیٰ طاقت کے کارندے کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں ۔ تاہم بہت سے واقعات بھوتوں کے بارے میں ایسے ہیں جن میں کسی فرد کا بھوت اس کی موت کے فوراً بعد اس کے جاننے والوں کو دکھائی دیا جس کا مطلب انہیں یہ اطلاع دینا تھا کہ وہ مرچکے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ یوں ہے۔
1973ء کی ایک صبح بلینڈ فورڈ کی رہنے والی مسز مارتھا اپنے گھر کے باغیچے میں پھولوں کو پانی دے رہی تھی کہ اس نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی موجودگی وہاں محسوس کی۔ اسے لگا جیسے اس کی بیٹی وہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک گئی تھی اور اس نے واضح طور پر سنا کہ وہ اسے الوداع کہہ رہی تھی اور الفاظ یوں تھے کہ ’گڈ بائے مارتھا‘۔ ان الفاظ میں کچھ ایسی بات تھی کہ مارتھا کو فوراً ہی احساس ہوا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ کچھ افسوس ناک واقعہ ہوچکا تھا اور یہ خیال اس کے ذہن میں آیا کہ کہیں اس کی بیٹی فوت تو نہیں ہوگئی تھی جبکہ بعد میں اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی کیلی فورنیا میں ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہوگئی تھی۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہمارا کوئی عزیز فوت ہوتا ہے تو اس کی موت کے بعد کچھ عرصے تک اس گھر میں جہاں وہ شخص رہتا رہا تھا‘ اس کی موجودگی محسوس کی جاتی ہے۔ انڈیا کے اسطوریات کے مطابق اسے ’اوورا‘ کہا جاتا ہے جو کسی فرد کی روح جیسا ہی ایک وجود ہوتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی پسندیدہ جگہ پر کچھ عرصے کے لیے باقی رہ جاتا ہے۔ بہرحال ان تمام واقعات سے ایک بات واضح ہے کہ بھوتوں کی طرح کی کوئی شے موجود ہے جو لوگوں کو مختلف صورتوں میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ بھوت بھی ہوسکتی ہے‘ کسی کی روح بھی اور ہمارے اپنے ہی دماغ کی کسی ایسی حس کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے جو عام حالات میں مخفی رہتی ہے اور جونہی کوئی عزیز فوت ہوتا ہے تو بیدار ہوجاتی ہے اور ہمیں ایسے اوہام ہوتے ہیں جیسے وہ شخص موجود ہو اور جیسے ہماری بہت سی حسیات کا تعلق زندہ لوگوں سے ہے اسی طرح ہماری اس مخصوص حس کا تعلق مرجانے والے افراد سے ہوتا ہے اور یہ ان سے رابطہ پیدا کرلیتی ہے۔



















































