اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

برطانوی عدالت کا ’’3 پاکستانی نژاد مجرموں ‘‘کو ڈی پورٹ کرنے کا حکم،برطانوی شہریت بھی منسوخ کرنے کا اعلان، کھلبلی مچ گئی

datetime 10  اگست‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)برطانوی عدالت نے حکومتی فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے بدنامِ زمانہ گرومنگ گینگ کے 3 اراکین کی برطانوی شہریت منسوخ کرتے ہوئے انہیں پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے احکامات دے دئیے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ میں کہا گیا کہ عدالتی حکم کے مطابق اب گینگ کے تینوں پاکستانی شہری برطانیہ میں مزید قیام نہیں کرسکتے اور ممکنہ طور پر انہیں ان کے وطن واپس بھیج دیا جائیگا

خیال رہے کہ انہوں نے قانونی طریقے سے برطانوی شہریت حاصل کی تھی۔واضح رہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری عبدالعزیز، عادل خان اور قاری عبدالرؤف شمالی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ان 9 پاکستانیوں اور افغانیوں کے گینگ میں شامل ہیں جنہیں کم عمر لڑکیوں کو نشے اور شراب کے ذریعے جنسی تعلقات میں راغب کرنے میں مجرم قرار دیا گیا تھا ٗان تینوں مجرموں کو مئی 2012 میں جیل بھیجا گیا تھا تاہم بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا ٗ گینگ کا سرغنہ شبیر احمد تاحال زیر حراست ہے جسے 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔مذکورہ معاملہ مئی 2015 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب موجودہ وزیراعظم تھریسامے، جو اس وقت وزیر داخلہ تھیں، نے عوامی مفاد میں ان افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے احکامات دئیے تھے جس پر مذکورہ مجرموں نے حکومتی فیصلے کو دو امیگریشن ٹریبونیل میں چیلنج کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ شہریت منسوخ کرنے سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی تاہم ان کی اپیل مسترد کردی گئی ٗجس کے بعد مذکورہ افراد نے عدالت سے رابطہ کیا تھا جس کی سماعت میں جج نے ٹریبونیل کے فیصلے کو قانونی طور پر درست قرار دیا اور اب ان افراد کو ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔تینوں افراد لیور پول کراؤن کورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں سے جنسی روابط رکھنے اور جنسی استحصال کیلئے انہیں فراہم کرنے میں ملوث پائے گئے تھے

جس پر عبدالعزیز جو خود بھی ایک سرغنہ تھا، کو 9 سال، عبدالرؤف، جو شادی شدہ اور 5 بچوں کا باپ ہے، اسے 6 سال اور عادل خان کو 8 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق تینوں مجرموں کے پاس سزا پوری کرنے کے بعد ڈیپورٹیشن کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار ہے اور اس عمل میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔دوسری جانب برطانوی محکمہ داخلہ کی ترجمان نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی ہولناک مقدمہ تھا، ہم عدالتی حکم کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس سلسلے میں آئندہ لائحہ عمل پر غور کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…