جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈیم فنڈز جمع کروانے میں بچے سب سے آگے! اسلام آباد کی 2 بہنوں نے ڈیمز فنڈز جمع کرنے کیلئے ایسا کام کر دکھایا کہ بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا ، آپ بھی دنگ رہ جائیںگے

datetime 10  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے اکائونٹ میں پاکستانیوں نے دل کھول کر چندہ دیا ،جس میں سب سے پہلی رقم چیف جسٹس نے خود دس لاکھ روپے جمع کروائی ، ڈیموں کی تعمیر کیلئے ملک بھر سے پاکستانی بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔

تاہم ان ڈیموں کی تعمیر میں بچوں کی کوششیں قابل دیدی ہیں ، انہوں نے یہ جذبہ زیادہ دکھائی دیتا ہے ۔ایسے دو بہنوں نے مثال قائم کر دی ۔ اسلام آباد کی دو بہنوں نے ’’دیا مر اور مہمند ڈیمز ‘‘ کی تعمیر کیلئے فنڈ جمع کروانے کیلئے ایسا طریقہ اپنا کے دیکھنے والے داد دینے پر مجبور ہو گئے ۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے رہائشی دو بہنوں’’ زینیا اور ونیرہ ‘‘ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز ‘‘ کی تعمیر کیلئے چندہ جمع کرنے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا ۔ دونوں بچیوں نے اپنے گھر کے باہر کھانے پینے کی اشیا کا اسٹال لگایا اور جمع ہونےوالی رقم کو ڈیمز کیلئے جمع کروا دیا ۔زینیا کا کہنا تھا کہ میں نے سب سے پہلے اس بات کا ذکر اپنی والدہ سے کیا جس پر انہوں نے میرے حوصلے کو سراہا اور ہمیں اسٹال لگانے کی اجازت دی اور ہماری مدد بھی کی ۔ دونوں بہنوں کے اسٹال پر لیموں پانی موجود تھا ، یہاں یہ بات یقیناً حیران کن ہے کہ دونوں بہنوں نے ایک اسٹال لگا کر دو دن میں 52ہزار روپے اکھٹے کیے ، بچیوں کے والد کا کہنا تھا کہ پانی پاکستان کیلئے ایک سنگین مسئلہ جس کیلئے ہمیں اپنے بچوں میںشعور اجاگر کرنا ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…