جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایل جی الیکٹرانکس کا کارنامہ، مصنوعی ذہانت پر تحقیق و ترقی کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

datetime 10  اگست‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی ایل جی الیکٹرانکس (ایل جی) نے ماہرین تعلیم اور نئے کاروباری اداروں کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید تحقیق کے لئے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایل جی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید تحقیق کیلئے شمالی امریکہ میں ادارہ قائم کیا جائے گا۔ رواں ہفتے کینیڈا میں ایل جی الیکٹرانکس آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔ یہ کیلیفورنیا کے علاقے سانٹا کلارا میں حال ہی قائم ہونے والی لیبارٹری کی توسیع ہے۔

ایل جی کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا وسیع تصور اسکی مستقبل میں ترقی کا اہم ذریعہ ہے اور شمالی امریکہ میں مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی لیبارٹری کی بدولت ایل جی کی عالمی تحقیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ ان میں جنوبی کوریا، انڈیا اور روس میں مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایل جی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ساتھ بھی نئی تحقیقی شراکت داری کررہا ہے جسے دنیا بھر مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ میں مہارت بالخصوص ڈیپ لررنگ کے شعبہ کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ ایل جی الیکٹرانکس کے پریذیڈنٹ اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر ڈاکٹر آئی پی پارک نے کہا، “مصنوعی ذہانت آخر کار ہر ایک کی زندگی میں رچ بس جائے گی اور جس طرح سے ہم کام کرتے ہیں، کھیلتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں، سب کے طور اطوار تبدیل ہوجائیں گے۔ کنیکٹڈ ڈیوائسز میں مصنوعی ذہانت کے ابتدائی طور پر عمل درآمد سے مستقبل کے اسمارٹ شہروں، اسمارٹ گھروں، اسمارٹ کاروبار اور اسمارٹ ڈیوائسز کی راہ ہموار ہورہی ہے، ان تمام خصوصیات کا ابھی تک کسی نے تصور نہیں کیا ہے۔ شمالی امریکہ میں لیبارٹری اور ایل جی کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ساتھ تحقیقی اشتراک مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔”یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ساتھ ملٹی ملین ڈالر تحقیق کے پانچ سالہ منصوبہ کے تحت

ایل جی مصنوعی ذہانت کے ماحول میں وسعت لانے کے لئے اوپن پلیٹ فارم۔اوپن پارٹنرشپ۔اوپن کنکٹیوٹی کی حکمت عملی پر کام کرے گا۔ نئی لیبارٹری سے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے محققین کی مہارت حاصل کی جائے گی اور مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والی امریکی اور کینیڈا کی ٹیموں کے ساتھ ایل جی کو مل کر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے پریذیڈنٹ میرک گرٹلر نے کہا، “ایل جی جیسے بین الاقوامی ٹیکنالوجی ادارے کے ساتھ تحقیقی اشتراک کو آگے بڑھانے کی امید کرتا ہوں

جس سے مصنوعی ذہانت میں نئی پیش رفت ہوگی۔ ہمارے جدت انگیز ایکو سسٹم میں ایسے صف اول کے ملٹی نیشنل ادارے سے اشتراک کی بدولت ہماری فیکلٹی، طالب علموں اور نئے کاروبار کی شروعات کرنے والوں کو مستحکم انداز سے مواقع ملے گے۔” ایل جی الیکٹرانکس کے پریذیڈنٹ اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر ڈاکٹر آئی پی پارک نے کہا، “ڈیپ لرننگ پر مصنوعی ذہانت کی سہولیات سے انتہائی زیادہ تبدیلی آئے گی جس میں سرفہرست یہ نکتہ ہوگا کہ ہم دنیا میں ایک دوسرے سے

کن طریقوں سے انتہائی باسہولت انداز سے ملیں جن میں پس منظر کا ڈیٹا جیسے بایومیٹرکس، جذبات، اظہار اور آواز شامل ہیں۔ “ایل جی کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کے تین اہم ستون کچھ اس طرح سے ہیں۔ پہلی حکمت عملی یہ ہے کہ وقت سے تبدیلی قبول کرتے جائیں اور اسی طرح اپنی مصنوعات کو ڈھالتے جائیں اور اس طرح تغیر پذیر رہیں جس سے صارفین کی مخصوص ضروریات پوری ہوں۔ دوسرا ستون یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو متنوع ٹچ پوائنٹس سے ملایا جائے تاکہ کنیکٹڈ ایپلائنسز اور ٹی وی سے لیکر کنیکٹڈ گاڑیوں اور اسمارٹ فونز تک صارف کے استعمال کو مزید باسہولت بنایا جائے۔ تیسرا ستون یہ ہے کہ ایل جی صارفین کو مصنوعی ذہانت کی بہترین خدمات فراہم کی جائیں اور اس طرح پورے ایکو سسٹم میں صف اول کے پارٹنرز کی خدمات پر اپنی برتری قائم رکھی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…