جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مراعات چھن جانے سے مولانا صاحب پاگل ہو گئے ہیں، شکست سے ان کی دنیا اجڑ گئی ہے،مولانا فضل الرحمان کو قوم کی کیا چیز اچھی نہیں لگ رہی؟ شیخ رشید کے دعوے

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

مراعات چھن جانے سے مولانا صاحب پاگل ہو گئے ہیں، شکست سے ان کی دنیا اجڑ گئی ہے،مولانا فضل الرحمان کو قوم کی کیا چیز اچھی نہیں لگ رہی؟ شیخ رشید کے دعوے اسلام آباد(آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے مولانا فضل الرحمن کے 14اگست کو یوم آزادی نہ منانے کے بیان پر

شدید تنقید اور رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مراعات چھن جانے سے مولانا صاحب پاگل ہو گئے ہیں۔ شکست سے ان کی دنیا اجڑ گئی ہے اس لئے انہیں پوری قوم کی خوشی بھی اچھی نہیں لگ رہی اور وہ مایوسی اور سوگ کی کیفیت میں ہیں تاہم پوری قوم جشن آزادی دھوم دھام سے منائے گی اور 13اگست کی شب لال حویلی کے باہر تاریخی جشن ہو گا۔ شیخ رشید احمد نے جمعرات کے روز اپنے ایک انٹرویو میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے 14اگست کو جشن آزادی نہ منانے کے بیان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے آباؤ اجداد تو پاکستان بننے کے ہی مخالف تھے آج پاکستان بننے کے مخالف عزت دار بنے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کے بیان کی تائید متوقع تھی کیونکہ جس شریف خاندان کا ہیرو مجیب الرحمن ہو اس سے کسی اچھے کی امید بھی نہیں رکھی جا سکتی جبکہ مولانا فضل الرحمن کی عبرتناک شکست نے انہیں نیم پاگل کر دیا ہے ان کا ذہنی توازن خراب ہو چکا ہے اور وہ اس وقت حالت نزع میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…