کراچی (آئی این پی ) کراچی میں نجی فیکٹری کے ملازم سلیم شہزاد کو نوکری سے نکالے جانے پر ملازم نے دیگر ساتھیوں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا اور دھمکی دی کہ تنخواہ نہ ملی تو خود کو اور ساتھیوں کو دھماکے سے اڑا دوں گا ، 9 ماہ سے کمپنی میں ملازم ہوں اور 2 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ، سلیم شہزاد نے 4 گھنٹے تک فیکٹری ملازمین کو یرغمال بنائے رکھنے کے بعد رینجرز اور پولیس کو گرفتاری دے دی ، پولیس نے ملزم کو تھانے میں بند کردیا ،
اسی طرح بلیو ایریا اسلام آباد کے سکندرنما ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو کراچی میں نجی فیکٹری کے ملازم سلیم شہزاد کو نوکری سے نکالے جانے پر ملازم نے دیگر ساتھیوں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا اور دھمکی دی کہ تنخواہ نہ ملی تو خود کو اور ساتھیوں کو دھماکے سے اڑا دوں گا ، 9 ماہ سے کمپنی میں ملازم ہوں اور 2 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ، سلیم شہزاد نے 4 گھنٹے تک فیکٹری ملازمین کو یرغمال بنائے ۔،سلیم شہزاد نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس اور آرمی چیف سے بات کرنا چاہتا ہوں ، 2 ماہ قبل دوران ڈیوٹی زخمی ہونے پر مجھے ملازمت سے نکال دیا گیا۔ میرے پاس بیگ میں بارود موجود ہے اگر کسی نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو خود کو دھماکے سے اڑا لوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ یرغمال افراد بالکل خیریت سے ہیں ۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف کے سامنے اپنا بیان دینا چاہتا ہوں ۔ ملک کا نظام ٹھیک نہیں چل رہا ۔ جمہوریت ملک کو راس نہیں آتی ۔ سلیم شہزاد نے کہا کہ یرغمال افراد نے میری تنخواہ روکی ہوئی تھی ۔ صرف اپنی تنخواہ ہی نہیں بلکہ تمام مزدوروں کے لئے ایسا کر رہا ہوں مزدور طبقہ اس طرح ظلم برداشت کرتا رہے ۔ سپریم کورٹ میں چند مقدمات درج کرانا چاہتا ہوں ۔ ملک کا نظام اس طرح نہیں چل سکتا ۔ میرے تمام واجبات ادا کیے جائیں اور نوکری پر بحال کیا جائے ۔
فیکٹری ملازمین کو تقریباً 5,4 گھنٹے یرغمال رکھنے کے بعد پولیس اور رینجرز کو گرفتاری دے دی ۔ ملزم نے سپر ہائی وے پر کرشنگ پلانٹ کے 2 ملازمین کو یرغمال بنایا ہوا تھا ملزم سلیم شہزاد نے تنخواہ نہ ملنے پر اسلحہ اٹھایا تھا۔ ملزم سلیم شہزاد نے 4 گھنٹے تک فیکٹری ملازمین کو یرغمال بنائے رکھنے کے ڈرامے کے بعد پولیس کو گرفتاری دے دی ،پولیس نے ملزم کو تھانے میں بند کردیا اوراسی طرح بلیوایریا اسلام آباد کے سکندرنما ایک اور ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا۔



















































