بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی ہوئی، سردار اختر جان مینگل نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیے

datetime 29  جولائی  2018 |

قلات (این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سر براہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی ہوئی ہیں پولنگ دیر سے شروع ہونے سے ٹرن آؤٹ کم رہی اور رزلٹ میں تاخیر ہونا یہ الیکشن کمیشن کی نا اہلی یا ملی بھگت ہے الیکشن سے قبل ہم نے جو خدشات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہوئے بی این پی کی مینڈیٹ کو چرالیا گیا اور اب بھی روزبروز اسے کم کی جارہی ہیں بعض سیاسی جماعتوں کے پاس امیدوار تک نہیں تھے

آج وہ بھی دھاندلی کا واویلا کررہے ہیں حکومت ہماری ترجیح نہیں بلوچستان کے مسائل ہمارے لیئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اپنی پارٹی کی سینٹرل کمیٹی میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت میں شامل ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز قلات کی مختصر دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر بی این پی کے رہنماء سردارزادہ ارباب نعیم دہوار ،میر سہراب خان مینگل ،ملک عبدالناصر دہوار اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے ،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سر براہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کمپیوٹرائزڈ دھاندلی کی گئی ہے ہم نے الیکشن سے قبل جن خدشات کا اظہار کیا تھااور جو منصوبہ بندی کی تھی نتائج کے بعدوہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں الیکشن سے قبل بی این پی کے اجتماعات کو دیکر ہم نے اندازہ لگایاتھا کہ بی این پی صوبائی کے 13 اور قومی کے سات نشستیں آسانی سے جیت لے گی مگر ہماری مینڈیٹ کو چرالیا گیا اور اب ہر روز ہماری نشستیں کم ہوتی جارہی ہیں جو کہ صوبائی کے تیرا ہ سے سات اور قومی کے سات سے تین ہو گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بعض جماعتیں ایسی ہیں جو الیکشن نتائج کے بعد دھاندلی کا واویلا کررہے ہیں

جن کو امیدوار بھی نہیں ملتے تھے ،انہوں نے کہا کہ جولوگ مادر پدر آزاد ہیں وہ اپنا کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں صوبے میں حکومت بنانے کے حوالے سے ہم اپنی پارٹی کے اداروں سنٹرل کمیٹی اور صوبائی کابینہ میں مشاورت کریں گے کہ ہم حکومت بنائیں یا اپوزیشن میں میں چلے جائیں ،پارٹی اداروں کے پابند ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت ہماری ترجیح نہیں بلوچستان کے مسائل ہمارے لیئے اہمیت رکھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اے پی سی میں جولوگ گئے تھے وہ خود مطمئن نہیں ہے تو ہم ان کے فیصلوں پر کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…