ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

یہ 1970 ء کا وقت نہیں،عمران خان وزیر اعظم کے بجائے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن جائیں،اداروں نے سکیورٹی کے بجائے کون سا کام کیا؟ن لیگ نے انتہائی خطرناک دعویٰ کردیا

datetime 27  جولائی  2018 |

کراچی (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) رہنما مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ ہمارے ہاتھ پاؤں باند ھ کر انتخابات میں اتارا گیا ۔انتخابات میں اداروں نے سکیورٹی کے امور سنبھالنے کے بجائے پولنگ کا سسٹم ہی اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا ۔ ایک سال سے ہماری پارٹی کو ٹارگٹ کیا گیا ۔ عمران خان کو چھوٹ دی گئی ، جب ان سے بات نہ بنی تو ادارے خود انتخابات کے نتائج پر حاوی ہو گئے ۔ عمران خان وزیر اعظم کے بجائے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن جائیں گے ۔

پیپلز پارٹی کو سیٹیں اس ڈر سی دی گئیں کہ کہیں وہ مسلم لیگ (ن) سے نہ مل جائے ۔ ہم نے ہمیشہ ہار کر بھی شکست تسلیم کی ۔ مگر اس انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں خواجہ طارق نذیر ، علی اکبر گجر اور مسلم لیگ (ن) سندھ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سسٹم کو ختم نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم جمہوریت کو جمہور کے طرز سے چلانے کا عزم رکھتے ہیں ۔ ۔ عوام نے کھل کر دیکھا کہ نتائج کے ساتھ کیا کیا گیا ۔ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا تھا اور ہمارے پولنگ ایجنٹس کو خالی بیلٹ باکس نہ دکھائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی مشاورت کے بعد جو بھی فیصلہ ہو گا ، ہم اسے قبول کریں گے ۔ جب بھی ملک میں دھاندلی ہوئی ، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہوں گے ، جو اس دھاندلی میں شامل تھے ۔ ہم کسی کو بھی ملک کے مستقبل سے کھیلنے نہیں دیں گے ۔ عمران خان کٹھ پتلی ہے ۔ اس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سے پی ٹی آئی کو جیتنا تھا ، ان پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ دو گھنٹے میں آگیا تھا جبکہ کراچی کا رزلٹ 24 گھنٹے بعد بھی نہ آ سکا ۔ کراچی میں عمران خان کو 91 ہزار ووٹ کا مطلب دھاندلی کی انتہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن ، سراج الحق اور ہم سمیت محمود خان اچکزئی کو ٹارگٹ کیا گیا ۔

دنیا کو یہ دکھایا گیا کہ پولنگ پرامن ہے مگر حقیقت میں پولنگ اسٹیشنز پر مارشل لاء لگایا گیا تھا ۔ ۔ آر ٹی ایس سسٹم خراب نہیں ہوا تھا بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دھاندلی کی غرض سے رزلٹ روکا گیا ۔ شیخ رشید اور عمران خان کچھ قوتوں کا بار بار شکریہ ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے ہم ان کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی کہی ہوئی بات ہمیں اب سمجھ آ گئی ہے کہ امپائر کون ہے اور انگلی کس کی اٹھی ہے ۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ 272 حلقے کھلنے کے بعد ہی ہم رزلٹ کو تسلیم کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…