بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سکول کے بچوں میں ایسی چیز کا رجحان بڑھنے لگا کہ جان کر آپ بھی خوفزدہ ہو جائینگے؟والدین اور اساتذہ یہ خبر ضروری پڑھیں

datetime 21  جولائی  2018 |

کراچی (ا ین این آئی)سحر فاؤنڈیشن ٹرسٹ کراچی یوتھ اسٹیڈی سرکل کے اشتراک سے گٹکا ،پان،چھالیہ ،مین پوری،سگریٹ،شیشہ سے پیداہونے والی مہلک بیماریوں سے آگہی مہم کے سلسلے میں حلقہ NA245(بابری چوک) گرومندسے صحت آگہی واک کا آغازکیاگیا ۔واک سحر اور یوتھ اسٹڈی سرکل عہدیداران کے علاو ہ سول سوسائٹی کے نمائندے ،طلباء وطالبات نے شرکت کی۔

ریلی بابری چوک سے بزنس ریکاڈرروڈ،رکشہ اسٹینڈ،فاطمہ بائی ہسپتال،لسبیلہ چوک نستر چوک سے ہوتی ہوئی ،تین ہٹی پر اہتمام پذیر ہوئی ۔واک کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے ۔ڈاکٹر ظفر اعظمی نے کہاکہ سن 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں گلے کے کینسر کی تعدادمیں اوسطاًشرح 0.3تھی ،مگر آج ان کی شرح میں 37فیصد تشویشناک اضافہ کی وجہ گٹکا ،چھالیہ ،پان ،نسوار،شیشہ اور میٹھی چھالیہ ہے۔جو آج کل نسل نو کی مرغوب غذابنتی جارہی ہے۔انہوںنے کہاکہ اسکول کے بچوں کوچھالیہ کا بڑھتا ہوارجحان میں والدین اور اساتذہ کوبری الذمہ نہیں قراردیاجاسکتا ۔انہوںنے کہاکہ اسکولوں اور کالجز کے طلبہ میں ابتداء سگریٹ کی عادت بعدمیں چرس تک پہنچ جاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی اداروں کے اطراف واکناف میں سگریٹ کے اشتہارات اور سائن بورڈلگانے کی اجازت نہیں اور الیکڑانک میڈیامیں سگریٹ کے اشتہارات پرپابندی اور اخبارات میں بھی اس حوالے سے قدغن ہے۔مگرہمارے ملک میں اس سے بالکل برعکس ہے۔اور محکمہ صحت کے حکام اور حکمران طبقہ گہری نیند میں ہے انہوںنے کہاکہ پارکوں میں سگریٹ نوشی کی پابندی کے باوجود ،مک مکا کے ذریعے سگریٹ نوشی عام ہے اور اسکولوں وکالجوں کی کینٹین سگریٹ باآسانی مل جاتی ہے۔واک سے خطاب کرتے ہوئے افتخارغزالی نے کہاکہ سحر اور یوتھ سرکل کراچی کی مضافاتی بستیوں میں صحت آگاہی مہم کے ذریعے نئی نسل کو بیماریوں سے متعلق شعوراُجاگرکرتی رہے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…