منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

پرومو کوڈز کے نام پر سیاستدانوں پر تنقید کریم ٹیکسی کو مہنگی پڑگئی ،کمپنی معافی مانگنے پر مجبور ،ساتھ ہی اہم اعلان بھی کردیا

datetime 9  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں کون سی پارٹی جیتے گی اس کی فکر صرف سیاستدانوں کو ہی نہیں کھائے جارہی بلکہ بہت سے ادارے الیکشنز کو اپنے منافع کے لیے بھی استعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔ان میں ایک کریم ٹیکسی سروس ہے جسے بہت فکر ہے کہ اس بار سب سے زیادہ ووٹ کس پارٹی کو ملیں گے۔

لیکن اس بات سے زیادہ فکر کریم کو یہ ہے کہ لوگ گھروں سے ووٹ دینے پولنگ اسٹیشن تک جائیں تو کسی اور گاڑی کے بجائے ان کی ٹیکسی سروس کا استعمال کرکے ہی اپنے اس فرض کو انجام دیں اور اس موقع پر کریم نے صرف لوگوں کو یہ مشورہ ہی نہیں دیا، بلکہ اس مشورے کے ساتھ نئے انداز کے چند پرومو کوڈز بھی سامنے لائے، جس سے لوگوں کو کرائے میں رعایت مل سکے۔کریم نے سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے مشہور نعروں کا استعمال کرتے ہوئے ان سے ملتے جھلتے نئے پرومو کوڈز تیار کیے۔ان کوڈز میں ’’میرے عزیز ہم وطنو،دیکھو دیکھو کون آیا کیپٹن آیا کیپٹن آیا‘‘۔کریم تیرے جانثار بیشمار بیشمار‘‘۔’’گاڑی آ نہیں رہی گاڑی آگئی ہے‘‘۔پرومو (مجھے)کیوں نکالا؟،’’کل بھی پرومو زندہ تھا آج بھی پرومو زندہ ہے‘‘۔ان پرومو کوڈز میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے نعروں کا انداز دینے کی کوشش کی گئی۔تاہم کریم سروس کا یہ اقدام خود ان کو مہنگا پڑ گیا، جسے انہوں نے انتخابات میں عوام کو پرجوش انداز میں حصہ لینے کا انداز قرار دیا، اس ہی انداز کو عوام نے کریم کی سیاستدانوں پر تنقید سمجھا۔ٹوئٹر پر صارفین نے تنقید کی کہ کریم سروس کا یہ اقدام ملک میں جمہوریت کے خلاف سازش ہے جبکہ بہت سے افراد نے کریم کی اس حرکت سے ناراض ہوکر ان کی ایپ کو مزید نہ استعمال کرنے کا اعلان کیا۔

ٹوئٹر پر شدید تنقید کے بعد کریم نے صارفین سے ایک ٹویٹ کے ذریعے معافی بھی مانگی۔کریم کے مطابق ہمارا مقصد کسی کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا اور اگر ایسا ہوا تو ہم معذرت خواہ ہیں، کریم سیاسی طور پر ایک غیر جانبدار ادارہ ہے، ہماری الیکشن ٹیگ لائنز میں تمام مشہور سیاسی نعروں کا استعمال کیا گیا، ہمارا واحد مقصد عوام کو پولنگ اسٹیشن تک لے کر آنا تھا۔لیکن سوشل میڈیا صارفین کریم کے جاری ہونے والے اس بیان سے مطمئن نظر نہیں آئے۔انہوں نے کہا لوگوں کو پولنگ اسٹیشن تک لانا آپ کا کام نہیں، وہ یہ کام خود بھی کرسکتے ہیں، آپ کا اپنا کاروبار ہے جس میں اخلاقیات کا خیال رکھنا ضروری ہے، کسی سیاسی مہم کو چلانا آپ کا کام نہیں۔جبکہ ایک صارف نے کہا کہ وہ خود تو اب کریم کا استعمال نہیں کریں گے لیکن اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ ان کے خاندان میں کوئی بھی اس سروس کا استعمال نہ کرے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…