جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

ٹرمپ کے کہنے پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے تیل کی پیداوار میں بڑے اضافے کی حامی بھرلی،اس اقدام سے ایران پرکیا اثرات پڑینگے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 1  جولائی  2018 |

تہران (نیوز ڈیسک) ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو اپنا تیل فروخت کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہو گا اور اس کے ساتھ ان ممکنہ ممالک کو تنبیہ کی جو ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد تیل کی بین الاقوامی منڈی میں اس کے حصے کی جگہ لینا چاہیں گے۔بر طا نو ی میڈ یا کے مطا بق اتوار کو ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے کہا کہ اس جنگ میں جو بھی ملک یہ چاہتا ہے کہ تیل کی منڈی میں ایران کی جگہ لے لے،

وہ ایرانی عوام اور بین الاقوامی برادری سے دغا بازی کرے گا اور یقیناًوہ اس دغا بازی کی قیمت بھی ادا کرے گا۔ قومی صعنت اور کان کنی کے دن کے موقع پر تقریب سے خطاب میں نائب صدر اسحاق جہانگیری نے یہ بیان دیا جسے ایرانی ٹی وی چینل آئی آر آئی این این پر براہ راست نشر کیا گیا۔نائب صدر اسحاق جہانگیر نے کہا کہ امریکہ تیل کے علاوہ اس کی دیگر برآمدات اور کرنسی کی ترسیل کو متاثر کرنا چاہتا ہے اور اس ساتھ کہا کہ بعض علاقائی ممالک ایران میں غیر ملکی کرنسی کے قلت کے معاملے کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘میں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے درخواست کی ہے کہ وہ تیل کی پیداوار 20 لاکھ بیرل یومیہ کر دیں اور انھوں نے ہامی بھر لی!’صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایران اور وینیزویلا میں شورش اور فساد جاری ہے۔’یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی وجہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا امریکی منصوبہ ہے۔تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں پیداوار بڑھانے کے لیے ہامی بھری تھی لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔سعودی خبر رساں ادارے کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی صدر اور سعودی بادشاہ کے مابین گفتگو ہوئی ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ تفیصلات بیان نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ سعودی حکمران نے تیل کی پیداوار بڑھانے کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک ہے اور اس سال مئی میں تقریبا ایک کروڑ بیرل تیل ان کی روزانہ کی پیداوار تھی۔لیکن امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب شاید امریکی صدر کی درخواست ماننے کے لیے راضی نہ ہوں۔ایک سعودی عہدے دار نے اخبار کو بتایا کہ ‘سعودی عرب ایک کروڑ بیرل تیل یومیہ سے زیادہ پیداوار کرنا نہیں پسند کرتا اور اس کے ایسے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے۔ پیداوار بڑھانا کافی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔’اس سے قبل ماضی میں صدر ٹرمپ اوپیک کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…