بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سارک ممالک پر باہمی تجارت بڑھانے کیلیے ٹھوس لائحہ عمل پرزور

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک) اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی ’سمیڈا‘ کے چیف ایگزیکٹو آفسیر محمد عالمگیر چوہدری نے کہا ہے کہ سارک ممالک کے درمیان آپس میں ہونے والی تجارت کا حجم جنوبی ایشیا میں ہونے والی کل تجارت کے صرف 6 فیصدی حصے پر مشتمل ہے جسے بڑھانے کے لیے سارک کے تحت کام کرنے والی اقتصادی اور تجارتی ایجنسیوں کو ٹھوس لائحہ عمل مرتب کر نا چاہیے۔
یہ بات انہوں نے سارک کے ٹریڈ پروموشن نیٹ ورک اور سمیڈا کے اشتراک سے منعقدہ ایک انسیپشن ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ورکشاپ کا مقصد سارک ممالک کے مابین ٹیکسٹائل وگارمنٹس کے شعبے میں ویلیو چین کو فروغ دینا تھا۔ ورکشاپ سے سی بی آئی، نیدر لینڈ کے عالمی ٹیکسٹائل ایکسپرٹ مسٹرکلدیپ شرما، فیڈریشن آف مائیکرو اینڈ اسمال انٹرپرائزز انڈیا کے جوائنٹ سیکریٹری مسٹر وی این شاستری اور ان کے مشیر ٹیکسٹائل سمپتھ کسریجان نے بھی خطاب کیا۔
سمیڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اپنے خطبہِ استقبالیہ کے دوران سارک کے تحت ٹریڈ پروموشن نیٹ ورک کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور امید کی کہ اس سے سارک ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فرو غ ملے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان دنیا میں ٹیکسٹائل کنٹری کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس حوالے سے سارک ممالک کے تعاون سے جو ویلیو چین تشکیل دیا جارہا ہے، اس میں پاکستان کلیدی کردار انجام دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں سمیڈا کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے اس موقع پر پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کے لیے سمیڈا کی طرف سے انجام دی جانے والی خدمات کے بارے میں بھی حاضرین کو آگاہ کیا۔ ابتدائی طور پر اس پروگرام کے تحت پاکستان کے ٹیکسٹائل یونٹوں کو بنگلہ دیش اور سری لنکا کے یونٹوں کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تا کہ پاکستان سے یارن اور فیبرک برآمد کی جا سکے جبکہ اس پروگرام کے اگلے مرحلے میں سارک ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے نان ٹیرف بیریئرز کو ختم کرنے کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…