منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایمنسٹی اسکیم کے تحت ایف بی آر کو ٹیکس کی مد میں 30 ارب روپے موصول

datetime 28  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت 30 ارب روپے موصول ہوگئے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ رات تک 15 ہزار افراد اپنے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں۔ اپریل کے فنانس بل میں منظور کی جانے والی ایمنسٹی اسکیم 30 جون کو ختم ہورہی ہے تاہم اسے سے قبل پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ایف بی آر میں اثاثے ظاہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 15 ہزار افراد اب تک ایف بی آر میں اپنے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں جن میں زیادہ تعداد اندرون ملک پاکستانیوں کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرون ملک سے تقریباً 10 ہزار سے زائد افراد نے اپنے اثاثے ظاہر کیے جب کہ بیرون ملک سے 4 ہزار 913 افراد نے اپنے اثاثے ایف بی آر کو بتا دیے۔ ذرائع کے مطابق ایمنسٹی اسکیم کے تحت ایف بی آر کو ٹیکس کی مد میں 30 ارب روپے موصول ہوئے جب کہ مختلف افراد کی طرف سے 60 ارب روپے کے ٹیکس کے لیے چالان بھی بھر دیے گئے ہیں اور یہ رقم ایک دو روز میں ایف بی آر کو مل جائے گی۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق ملکی تاریخ میں کسی ایمنسٹی اسکیم سے اتنی بڑی رقم حاصل نہیں ہوئی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے اپریل میں ایمنسٹی اسکیم کے تحت 3 سے 4 ارب ڈالر ٹیکس وصولی کا دعویٰ کیا تھا جو پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں کالا دھن یا اثاثے ظاہر کرنے کی وجہ پاکستان کا آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کا ممبر بننا ہے اور ستمبر 2018 پاکستان اس تنظیم کا رکن بننے کے بعد تمام رکن ممالک سے پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات لے سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…