ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

مولانا فضل الرحمان کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں،ذاتی گاڑی نہیں ہے اور 2 گھروں کی مالیت کتنی ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 24  جون‬‮  2018 |

پشاور(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔دستاویزات کے مطابق متحدہ مجلس عمل اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے اور ان کے ڈیرہ اسمعیل خان میں 2 گھروں کی مالیت 40 لاکھ روپے ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 7 لاکھ روپے مالیت کے 5 مرلے کے پلاٹ کے بھی مالک ہیں جب کہ ان کی اہلیہ کے پاس 9 لاکھ 50 ہزار روپے کے زیورات ہیں۔دوسری جانب دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویزخٹک 12 کروڑ 96 لاکھ 46 ہزار روپے زرعی زمین کے مالک ہیں اور وہ حیات آباد میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پرویزخٹک 2012 ماڈل کی گاڑی کے مالک ہیں جس کی قیمت 13 لاکھ67 ہزار روپے ہیں جب کہ ان کی اہلیہ 53 تولے سونے کی مالک ہیں۔دستاویز کے مطابق پرویز خٹک نے ایک دوست کو 40 لاکھ روپے قرضہ دیا ہے اور انہیں 2 کروڑ 52 لاکھ روپے قرض کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔یاد رہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے اثاثہ جات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک کئی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے اثاثے سامنے آئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔دستاویزات کے مطابق متحدہ مجلس عمل اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے اور ان کے ڈیرہ اسمعیل خان میں 2 گھروں کی مالیت 40 لاکھ روپے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…