منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فضائی تاریخ کا انوکھا ترین واقعہ،معروف ایئرلائن کے پائلٹ نے مسافروں کو جہاز سے نکالنے کیلئے اے سی فْل کردیا،168مسافرسوارتھے،متعدد کی حالت خراب

datetime 22  جون‬‮  2018 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) ایک بھارتی ایئرلائن نے مسافروں کو 4 گھنٹے سے زائد تک انتظار کروانے کے بعد طیارے سے اترنے کا حکم دے دیا اور جب مسافر نہیں اترے تو جہاز کا ایئر کنڈیشن فل کردیا، جس سے کئی لوگوں کی حالت خراب ہوگئی۔بھارتی ٹی وی کے مطاببق کلکتہ سے بگڈوگرا جانے والی ایئر ایشیا کی پرواز کے لیے پہلے مسافروں کو ایئر پورٹ اور پھر طیارے میں تقریباً 4 گھنٹے تک انتظار کروایا گیا اور اس کے بعد حکم ہوا کہ جہاز سے اتر جائیں۔

جب مسافروں نے جہاز سے اترنے سے انکار کیا تو طیارے کا اے سی فْل کردیا گیا، جس کے باعث طیارے میں دھند جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، جس سے کئی مسافروں کی طبیعت خراب ہوگئی۔مذکورہ پرواز میں 168 مسافر سوار تھے۔طیارے میں سوار ایک مسافر دیپانکار رائے نے بتایا کہ عملے کا رویہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور خراب تھا۔ان کا کہنا تھاکہ فلائٹ نے صبح 9 بجے روانہ ہونا تھا لیکن وہ آدھا گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی، بورڈنگ کے بعد ہمیں ڈیڑھ گھنٹے تک طیارے میں بھوکا پیاسا بٹھایا گیا، جس کے بعد پائلٹ نے تمام مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ جہاز سے نیچے اتر جائیں اور اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔دیپانکار رائے نے مزید بتایا کہ جب شدید بارش کی وجہ سے مسافروں نے جہاز سے اترنے سے انکار کیا تو کپتان نے اے سی کو فل کرکے چلا دیا، جس سے طیارے میں دھند جیسی صورتحال پیدا ہوگئی اور لوگوں کا دم گھنٹنے لگا، کئی خواتین نے قے کردی جبکہ بچوں نے رونا شروع کردیا۔دیپانکار رائے کی جانب سے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسافر جہاز کے عملے سے اے سی کو بند کرنے کی گزارش کر رہے ہیں۔دوسری طرف رابطہ کرنے پر ایئر لائن انتظامیہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فلائٹ ساڑھے 4 گھنٹے تک تکنیکی وجوہات کی بناء پر تاخیر کا شکار ہوئی، تاہم اے سی کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ معمول کی بات تھی اور مرطوب صورتحال میں اِسی طرح کیا جاتا ہے۔

ایئرلائن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مسافروں کو ریفریشمنٹ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل انتظامات بھی کیے گئے۔تاہم اس حوالے سے دیپانکار رائے نے بتایا کہ انتظامیہ نے مسافروں کو جہاز سے اتارنے کے بعد کہا کہ وہ ایئرپورٹ کے فوڈ کورٹ میں چلے جائیں اور وہاں کھانا حاصل کرنے کے لیے اپنے بورڈنگ پاسز دکھائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو فوڈ کورٹ والوں نے ہمیں کھانا دینے سے انکار کردیا اور جب ہم دوبارہ فلائٹ میں سوار ہوئے تو ایئرلائن انتظامیہ نے ہمیں سینڈوچ اور ایک پانی کی بوتل فراہم کی، یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…