جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

وکلا ء سے پیسے لوں گا اور خود بھی دوں گا،میں نے سوچ رکھا ہے کہ ۔۔۔!!! چیف جسٹس کا ایسا اعلان کہ سب کے دل جیت لئے

datetime 21  جون‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لوگوں نے قرضے لے کر معاف کرادیے، سپریم کورٹ چاہتی ہے پاکستانی قوم مقروض نہ رہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں۔لارجر بینچ نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ لوگوں نے قرضے لے کر معاف کرادیے۔

قرضے معاف کراتے وقت ایسے مظلوم بن جاتے ہیں جیسے ان کے پاس روٹی کھانے کے پیسے بھی نہیں،آج اگر ان کے خلاف تحقیقات کرالوں تو ان کے پاس بی ایم ڈبلیو، وی ایٹ اور ناجانے کون کون سی گاڑیاں نکلیں گی، قرضے معاف کرانے والوں نے اپنی زندگی بنا کر عاقبت خراب کرلی، میں نہیں سپریم کورٹ چاہتی ہے یہ قوم مقروض نہ رہے، ایک وقت بھی جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ ایک لاکھ 17 ہزار روپے کا مقروض ہے، میں اس ملک کے لیے وکلا سے پیسے لوں گا اور اپنے پلے سے بھی دوں گا، میں نے سوچ رکھا ہے اس ملک سب نچھاور کرنا ہے، سماعت کے دوران کے الیکٹرک کے چیف ڈسٹری بیوشن افسر نے عدالت کو بتایا کہ کے الیکٹرک بجلی کی استعداد میں اضافہ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، بہتری کے لیے سرمایہ کاری بھی کر رہے ہیں۔ اس موقع پر معاون عدالت فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔ کے الیکٹرک استعداد بڑھا رہی ہے نہ ہی لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کو شوکاز نوٹس جاری کیا مگر اس کے باوجود صورتحال نہیں بدلی۔کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طلب 3500 میگا واٹ جبکہ 2950 میگا واٹ مل رہی ہے۔3 کیٹیگری میں لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں۔

علاقے کے لحاظ سے 3, 6 اور ساڑھے 7 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ کنڈا سسٹم نہیں نظام ٹھیک نہ کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے الیکٹرک حکام سے استفسار کیا کہ بتائیں بوسیدہ نظام کی بہتری کے لیے کیا کچھ کیا۔ جب تک آپ کے عملے کی معاونت نہ ہو بجلی چوری نہیں ہو سکتی۔ پنجاب میں 4 ارب لگے مگر پانی کی ایک بوند نہیں ملی, سپریم کورٹ کا مزاج لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔

ہم یہاں لوگوں کو سہولتیں دینے کے لیے بیٹھے ہیں۔کے الیکٹرک لکھ کر دے اب پلانٹ بند نہیں ہوں گے،یاد رکھیں اگر اب پلانٹ بند ہوئے تو سخت کارروائی کریں گے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دئے کہ جو بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں ان کا کیا قصور ہے ۔جو بل ادا کر رہے ہیں انہیں بھی لوڈ شیڈنگ کے عذاب کا سامنا ہے۔نیپرا نے لکھا لیاقت آباد 14 گھنٹے، اورنگی، کورنگی میں 18,18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ اس موقع پر عدالت نے کے الیکٹرک، حیسکو سے ایک ہفتے میں حلف نامے طلب کر لیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…