جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پاکستان، بھارت،امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 19  جون‬‮  2018 |

جنیوا (این این آئی)جوہری ہتھیارروں سے پاک دنیا کا تصور شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ امن پر تحقیق کرنے والے سویڈش تھنک ٹینک سپری کے مطابق نئے جوہری ہتھیار پہلے ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔2017ء جوہری ہتھیاروں کے مخالفین کے لیے ایک اہم سال ثابت ہوا۔ اقوام متحدہ کے 122 رکن ممالک نے جوہری ہتھیاروں نے ایک معاہدے کے ذریعے فیصلہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کریں گے اور نہ ہی ایسے ہتھیار اپنے پاس رکھیں گے۔

تاہم اس معاہدے کے بعد بھی دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوا۔سپری کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے نو ممالک کے پاس ابھی بھی 14,465 جوہری ہتھیار ہیں۔ یہ ممالک ہیں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا ہیں۔ عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو اقلیت میں ہونے کے باوجود یہ ممالک ان مہلک ہتھیاروں سے مکمل طور پر دستبردار ہونے پر رضامند دکھائی نہیں دیتے۔ بھاری اسلحہ خریدنے والے ممالک کی فہرست میں ویت نام دسویں نمبر پر رہا۔ سپری کے مطابق اسلحے کی عالمی تجارت میں سے تین فیصد حصہ ویت نام کا رہا۔سپری کی رپورٹ کے مطابق جوہری طاقتیں اپنے ہتھیاروں کو مستقل جدید سے جدید تر بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔ سپری کے محقق شانون کائل کے بقول اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانے کی جگہ نئے ہتھیار لے لیں گے۔ کچھ ہتھیار تو چالیس پچاس سال پرانے ہیں۔ نئے جوہری ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں، جو نئی تکنیک اور مختلف مہارت رکھتے ہیں ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء کے مقابلے میں رواں برس جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں 470 کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کا تعلق 2010ء میں روس اور امریکا کے مابین تخفیف اسلحے کے ’نیو سٹارٹ‘ نامی معاہدے سے ہے۔ دنیا کے 92 فیصد جوہری ہتھیار انہی دو ممالک کے پاس ہیں۔

سپری کے مطابق امریکا کے6,450 جبکہ روس کے پاس 6,850 وار ہیڈز ہیں۔شانون کائل کہتے ہیں، کچھ کمی کے باوجود جوہری ہتھیاروں کی موجودگی غیر معمولی خدشات کا باعث ہے۔ جوہری ہتھیار کے حامل تمام ممالک نے یا تو جوہری ہتھیاروں میں کمی کرنا شروع کر دی ہے یا پھرانہیں جدید بنانے کے اپنے طویل المدتی منصوبوں کا اعلان کر چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کوئی بھی ملک مستقبل قریب میں جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر دستبرداری کے حوالے سے کام کرنے پر

رضامند دکھائی نہیں دیتا۔سپری کی یہ رپورٹ آزاد ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات پر مشتمل ہے جبکہ اس سلسلے میں امریکی اور برطانوی حکومت نے بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ دونوں حکومتیں جوہری اثاثوں کے حوالے سے نسبتاً شفاف موقف رکھتی ہیں۔کائل کے بقول اس سلسلے میں سب سے پیچیدہ ملک شمالی کوریا ہے،بنیادی طور پر یہاں پر بالکل بھی شفافیت نہیں ہے۔ ہمیں اس ملک کے بارے میں تمام اطلاعات باہر سے کی جانے والی نگرانی سے ملتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…