چھ ہزار برس پہلے کے مصر میں جب فرعون حکومت کرتا تھا اور رعایا غلا م بے دام بن کر ان کی خدمت میں حاضر رہتی تھی۔ کنیزیں‘لونڈیاں‘غلام گردشوں میں دبے قدموں حرکت کرتیں اور فرعون بڑی شان و شوکت‘کروفراور رعب و وقار کے ساتھ جڑاؤ تخت کے اوپر سر پر افعی والا مکٹ رکھے شاہانہ زیب و زینت کے بیش قیمت زیورات پہنے‘ہاتھ میں دیوتاؤں کی عظمت و تقدیس کا عصا تھامے ‘سونے کی ایک عالی شان صندلی پربڑے کبرونخوت سے بیٹھتے تھے۔یہ فرعون انتہائی ظالم‘آمراور مطلق العنان تھے۔ پھر جب ان فراعین مصر کے دل میں لازوال اور لافانی بننے کی خواہش نے جنم لیا تو انہوں نے اہرام تعمیر کروائے۔ اس سلسلے میں جب فرعون خوفو نے مینار کبیر بنانے کا حکم صادر کیا تو ایک آمر مطلق کی خواہش کی تکمیل کیلئے ہزاروں‘لاکھوں مزدور اور راہگیر بیس برس تک مسلسل محنت کرتے رہے۔
غربت و افلاس اور محنت و مشقت کے مارے ہوئے سیاہ فام‘ننگ دھڑنگ‘مزدورں اور غلاموں کی سینکڑوں لمبی لمبی قطاریں تھیں جو آگ برسانے والے سورج کی تپتی ہوئی شعاعوں کے نیچے تپتی ہوئی ریت پر پسینے میں شرابور‘تھکن سے چور ‘ زخموں سے نڈھا ل‘سنگ خارا کے بڑے بڑے ٹکڑوں کورسوں اور زنجیروں کی مدد سے کھینچتے ہوئے مشقت سے پھولی ہوئی رگوں کے ساتھ کنارہ نیل کی جانب صحرا میں گھسیٹ گھسیٹ کر لاتے تھے۔ جب وہ ذرا سستی سے کام لیتے تھے تو ان کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جاتے تھے۔ ان میں سے کئی زخمی ہو کر گر پڑتے تھے اور کئی اٹھنے کی کوشش میں دم توڑ دیتے تھے۔ انسانوں سے جانوروں جیسا کام لیا جارہا تھا۔ ایک قیامت برپا تھی۔




















































