منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ کی کاؤنٹی کیمبرج میں بھارتی نژاد برطانوی طالبِ علم کو باحجاب مسلم خاتون کا دفاع کرنا مہنگا پڑ گیا، افسوسناک واقعہ

datetime 13  جون‬‮  2018 |

کیمبرج (این این آئی) برطانیہ کی کاؤنٹی کیمبرج میں بھارتی نژاد برطانوی طالبِ علم کو باحجاب مسلم خاتون کا دفاع کرنے پر نسل پرستوں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ ریکیش ایڈوانی پر برطانوی نسل پرستوں نے حملہ بھی کیا اور ’بریگزٹ، اپنے گھر واپس جاؤ‘

کے نعرے بھی لگائے۔ٹائمز آف انڈیا نے کیمبرج نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریکیش ایڈوانی کیمبرج ہسپتال میں ایک برطانوی نسل پرست کے ساتھ کھڑے تھے کہ اچانک اس شخص نے باحجاب مسلم خاتون پر نازیبا الفاظ کی بوچھاڑ کردی، جس کا بھارتی نڑاد برطانوی شہری نے دفاع کیا، جس پر اسے بھی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق ریکیش ایڈوانی کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا گیا، انہیں اپنی آواز دھیمی رکھنے کا کہا جاتا رہا اور ان کے خلاف’واپس اپنے گھر جاؤ‘ کے نعرے لگائے جاتے رہے۔ریکیش ایڈوانی نے پولیس کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نفرت کا نشانہ بنایا گیا اور میں یہ یقین نہیں کرسکتا کہ 2018 میں بھی کوئی اتنا تعصب کا شکار ہے۔ کوئی بھی عقل مند شخص غلط بات بھی برداشت کرلیتا لیکن نسل پرست افراد ان کے ساتھ غیر ضروری طور پر جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔اس نے بتایا کہ ہسپتال میں باحجاب خاتون کے خلاف نازیبا الفاظ کا دفاع کرنے والے وہ واحد شخص تھے، اس بات کا دکھ ہے کہ وہاں موجود کسی بھی شخص نے مسلم خاتون کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔ریکیش ایڈوانی نے بتایا کہ میں نے جب پولیس کو بلانے کے لیے کہا تو لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے اور مجھے یوں محسوس ہوا کہ شاید وہ لوگ کسی چیز سے دھمکیاں دینے والے شخص کو ڈرائیں گے تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…