منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی اونچی اڑان جاری،اگلے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ، قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 12  جون‬‮  2018 |

کراچی،لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک)اوپن مارکیٹ میں ڈالر 50پیسے اضافے سے 122 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ منگل کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں پچاس پیسے اضافہ ہوا ۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ایک سو بائیس روپے کا ہوگیا۔واضح کہ گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 121.50روپے تک پہنچ گئی تھی جس کے باعث چند گھنٹوں میں غیر ملکی قرضوں میں 450ارب روپے کا اضافہ ہو گیا تھا۔

ادھرپاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن و سینئر نائب صدر فیروز پور بورڈ لاہور خادم حسین نے روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی قیمت میں6روپے تک اضافہ اورڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت ملکی معیشت کیلئے نقصان کا باعث ہے ،اوپن کرنسی مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ اور ڈالر کی قیمت122روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے ملکی معیشت دباؤ کا شکار ہے نیز ڈالر کی قیمت بڑھنے سے حکومتی قرضوں میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہوجاتا ہے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے فیروز پور بورڈ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ڈالر کی بے لگام پرواز کو لگام دے کیونکہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے خام مال مہنگا اور صنعتکار پریشانی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے خام مال کی قیمت میں اضافہ پیداواری لاگت میں اضافہ اور مہنگی اشیا کے باعث درآمدات میں کمی واقع ہوگی۔خادم حسین نے کہا کہ روپیہ کی قدر میں کمی اور تونائی بحران کے باعث صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہورہی ہے اور پاکستان عالمی مارکیٹ سے تیزی سے باہر ہورہا ہے، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک پر بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے اس لیے روپے کی قدر کو بہتر کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت ٹھوس اقدامات کرے۔اور حکومت ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…