منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

خواتین کو الیکشن نہیں لڑنے دینگے،تحریک انصاف کے اپنے ہی رہنماؤں نے اعلان جنگ کردیا،عمران خان کیلئے پریشان کن صورتحال

datetime 12  جون‬‮  2018 |

مانسہرہ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف ضلع مانسہرہ کے عہدیداران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی قیادت نے مانسہرہ سے خواتین امیدواروں کو دیئے گئے انتخابی ٹکٹ واپس نہیں لیے تو وہ کارکنوں کے ساتھ بنی گالہ کے باہر دھرنا دیں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ضلعی نائب صدر رضا اللہ خان نے اجلاس کے دوران کہا کہ ہمارا معاشرہ خواتین کو انتخابات میں نامزد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

، لہٰذا انہیں دیئے گئے ٹکٹس واپس لینے چاہئیں اور اگر پارٹی نے ہمارا مطالبہ پورا نہیں کیا تو عمران خان کی رہائش گاہ، بنی گالہ کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔پارٹی نائب صدر کی زیر صدارت اجلاس میں ضلع مانسہرہ کے حلقہ پی کے 30 اور پی کے 34 سے انتخابات کیلئے نامزد کیے گئے پارٹی امیداروں کے معاملے پر آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔رضا اللہ خان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں خواتین امیدوار، کارکنوں کے لیے ناقابل قبول ہیں اور اگر ان کی نامزدگی واپس نہیں لی گئی اور جیتنے والے امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تو پارٹی کو ان مخصوص نشستوں پر ناکامی ہوسکتی ہے۔پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما تیمور رضا کا کہنا تھا کہ انتخابات میں لڑنے کے خواہش مند شہزادہ گستاسب خان اور سعید خان کے ساتھ بیٹھ کر انتخابات میں نامزدگی کے لیے فیصلہ کرنا چاہیے تھا لیکن ان کے مدمقابل خواتین کا ہونا ناقابل قبول ہے۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن میں عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال منگل کو جاری رہی ۔تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات 2018 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کروانے کا گیارہ جون آخری روز تھا، اس سے قبل کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون تھی۔

تاہم الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی سہولت کے پیش نظر اس میں تین دن یعنی 11 جون تک کی توسیع کردی تھی۔الیکشن کمیشن کے مطابق 12 ہزار سے زائد امیدواروں کے کوائف قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک کو بھجوا دیئے گئے ہیں اور کاغذات نامزدگی کی آن لائن جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری رہا۔ذرائع کے مطابق حنا ربانی کھر کے ذمے بینکوں کے 55 کروڑ روپے سے زائد، فیصل واڈا کے ذمے 5 کروڑ 40 لاکھ روپے، ہارون بشیر بلور کے ذمے 5 کروڑ سے زائد اور اسد اللہ بھٹو کے ذمے 7 کروڑ روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔دوسری جانب این اے 205 سے امیدوار جام اکرام اللہ کے ذمے زرعی بینک کے 31 کروڑ اور ایک اور بینک کے 80 لاکھ روپے واجب الادا ہیں جبکہ این اے 88 سے امیدوار ہارون احسان پراچہ کے ذمے ساڑھے 7 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔امیداوروں کو ریٹرننگ افسران کے سامنے بینک قرضوں کی تمام تفصیلات پیش کرنا ہوں گی اور نادہندہ ہونے کی صورت میں امیدوار کو نا اہل قرار دیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…