بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

امیدوار کیسے پورے کریں؟ن لیگ شدید پریشان ،جیتو امیدوار کا سروے کرایا تو جانتے ہیں کیا حیران کن انکشاف ہوا؟

datetime 12  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سیاسی کنفیوژن اور پارٹی ٹکٹوں کے حوالے سے گومگو کا شکار پاکستان مسلم لیگ ن کیلئے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے امیدوار فائنل کرنا چیلنج بن گیا ہے ۔ ایک قومی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ن لیگ کے پاس صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ ہولڈروں کی تعداد ان گنت ہے جبکہ قومی اسمبلی کے لئے امیدواروں کی تعداد انتہائی کم ہے ۔

پارٹی کے حالیہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاسوں میں اس امر کو بخوبی دیکھا گیا ہے کہ 2017کے وسط او رواں سال کے آغاز میں دو مختلف اداروں سے کئے جانے والے سرویز کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ دئیے جائیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے اپنے دور حکومت میں پنجاب کے ایک سرکاری اور ایک وفاقی انٹیلی جنس اداروں سے خفیہ طور پر جیتو امیدوارکا سروے کروایا تھا۔ جس کا بعد ازاں دیگر ذرائع سے بھی کاؤنٹر چیک کیا گیا۔تاہم اس سرویز میں اکثریت کی تعداد جیتنے والے ن لیگی پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جا چکے ہیں ان کے خلا کو پر کرنے کیلئے ن لیگی قائدین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ ن لیگ کو جنوبی پنجاب کی طرف سے امیدواروں کی کمی کا سامنا ہے جس پر نشستوں پر امیدوار کو ٹکٹیں دینے کے بجائے اوپن چھوڑا جا سکتا ہے ۔ اس ضمن میں اچھے امیدواروں کی پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں سپورٹ کی جائیگی ۔ تاہم ان سے حلف لیا جائیگا کہ وہ جیت کی صورت میں ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کرینگے ۔پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے آخری اجلاس چل رہے ہیں مگر تاحال ملک میں اور صوبائی سطح پر پارٹی ٹکٹوں کا باضاطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ تاثر سامنے آرہا ہے کہ ن لیگ اپنے خاص لیگیوں کو جتوانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر حلقے تبدیل کر رہی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی کے ایک اور آزاد سروے نے ن لیگ کو پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی سے برتری دلوائی ہے تاہم قومی اسمبلی کی نشستوں پر بالا دستی کو خارج از امکان قراردیا گیا ہے ۔اس ضمن میں ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ن لیگ کی ٹکٹیں میرٹ پر دی جائینگی ۔پارٹی پالیسی واضح ہے ۔ووٹ کو عزت دو کا بیانہ گلی محلوں تک پھیل چکا ہے ۔جلد ہی وفاقی اور صوبائی سطح پر ن لیگ کے امیدواروں کا اعلان کر دیا جائیگا۔ اس حوالے سے قائد مسلم لیگ ن نوازشریف اور صدر شہبازشریف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔مخلص کارکنوں کو ٹکٹیں دی جارہی ہیں ۔ٹکٹوں کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام بے بنیاد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…