منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پیرس میں مسلم نوجوان بچے کو بچانے کیلئے جان پر کھیل گیا ٗدنیا بھر میں ہیرو بن گیا ،صدر ایمانوئل ماکروں کی ملاقات ،فرانس کی شہریت دینے کا اعلان 

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

پیرس (این این آئی) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ’حقیقی اسپائیڈر مین‘ بچے کو بچانے کے لیے اپنی جان پر کھیل گیا۔افریقی ملک مالی سے تعلق رکھنے والا مسلم نوجوان بالکونی سے بچے کو لٹکتا دیکھ کر محض 30 سیکنڈز میں عمارت کی چوتھی منزل تک چڑھ گیا اور بچے کو گرنے سے بچایا ٗ

بچے کی جان بچانے والا 22 سالہ محمد غسام پیرس سمیت دنیا بھر میں ہیرو بن گیا ٗفرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں بھی اس نوجوان کے کارنامے سے بے حد متاثر ہوئے اور اس سے ملاقات بھی کی۔صدر ایمانوئل ماکروں نے محمد غسام سے ملاقات کے بعد انہیں فرانس کی شہریت دینے کا اعلان کیا۔فرانسیسی صدر نے ذاتی طور پر محمد غسام کا شکریہ ادا کیا، انہیں تمغہ جرات دیا اور کہا کہ شہریت کے ساتھ ساتھ انہیں فائر سروس میں ملازمت بھی دی جائے گی۔خیال رہے کہ محمد غسام مالی سے کشتی کا پْرخطر سفر کرکے اٹلی پہنچے تھے جس کے بعد گزشتہ برس وہ بطور تارکین وطن فرانس پہنچے۔محمد غسام نے فرانسیسی صدر سے ملاقات میں بتایا کہ وہ سڑک سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ان لوگوں پر پڑی جو عمارت کے نیچے جمع تھے۔انہوں نے بتایا کہ جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک بچہ بلڈنگ سے لٹک رہا ہےٗ میرے پاس سوچنے کا وقت بالکل نہیں تھا، میں اسے بچانے کیلئے بھاگا۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ’حقیقی اسپائیڈر مین‘ بچے کو بچانے کے لیے اپنی جان پر کھیل گیا۔افریقی ملک مالی سے تعلق رکھنے والا مسلم نوجوان بالکونی سے بچے کو لٹکتا دیکھ کر محض 30 سیکنڈز میں عمارت کی چوتھی منزل تک چڑھ گیا اور بچے کو گرنے سے بچایا ٗبچے کی جان بچانے والا 22 سالہ محمد غسام پیرس سمیت دنیا بھر میں ہیرو بن گیا ٗفرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں بھی اس نوجوان کے کارنامے سے بے حد متاثر ہوئے اور اس سے ملاقات بھی کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…