بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

متحدہ مجلس عمل میں دراڑ پڑنا شروع ،وجہ بھی سامنے آگئی

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں(فاٹا) کے خیبرپختونخوا سے انضمام کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام ( ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان اختلافات سامنے آنے سے حال ہی میں دوبارہ بحال ہونے والی متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے) میں دراڑ پڑنا شروع ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے فاٹا انضمام بل پر جہاں جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے

خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر احتجاج کیا تو وہی جماعت اسلامی کے ارکان اس بل کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کے لیے صوبائی اسمبلی میں موجود رہے۔تاہم اس حوالے سے جب دونوں جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس معاملے کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ فاٹا انضمام پر اختلافات سے انتخابی اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جماعت اسلامی کے ترجمان امیر العظیم سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا سے انضمام سمیت مختلف معاملات پر دونوں جماعتوں کا مختلف نقطہ نظر ہے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارچ میں ایم ایم اے کے دوبارہ بحال ہونے سے پہلے سربراہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اتحاد کو نقصان پہنچائے بغیر تمام جماعتیں اپنی نظریاتی پوزیشن برقرار رکھیں گی۔امیر العظیم کا کہنا تھا کہ’ اس کے بعد سے تمام معاملات کو ایم ایم اے کی سپریم کونسل میں سنا جاتا ہے اور ہمارا ایک متحد موقف سامنے آتا ہے‘۔جماعت اسلامی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ ایم ایم اے کی دو اہم جماعتوں کے درمیان فاٹا انضمام کے معاملے پر اختلاف تھا لیکن اب دونوں جماعتوں کا اس معاملے پر ’ ایک نقطہ نظر‘ پر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ فاٹا انضمام کے معاملے پر اختلاف کرنے والے دونوں جماعتیں ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا فیصلہ قبول کریں گی۔دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد ایم ایم اے حقیقی صورت میں فعال ہوجائے گی۔جماعت اسلامی کے ساتھ اختلافات کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ’ ہمارا اتحاد انتخابات کے لیے ہے اور ہم ان معاملات پر بات کریں گے جو الیکشن کے بعد پیش آئیں گے‘۔انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ پارٹی کے بڑوں کے درمیان 4 یا 5 ملاقاتوں کے بعد ایم ایم

اے میں موجود ساتھی مختلف معاملات پر متفق ہونے پر راضی ہوجائیں گے۔حافظ حسین احمد نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فاٹا انضمام کے معاملے پر جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی کے درمیان اختلافات ہیں لیکن یہ الائنس کے اتحاد کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور آپ انتخابات کے بعد ہمیں ایک صفحے پر دیکھیں گے۔جے یو آئی کے رہنما نے واضح کیا کہ وہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے خیال کی مخالف نہیں لیکن وہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ قبائلی عوام کے مستقبل کے فیصلے میں انہیں بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…