جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے، ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر کون فیصلے کرتاہے؟،جنرل (ر) اسد درانی کے انکشافات ،نیا تنازعہ کھڑا کردیا

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے، ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر کون فیصلے کرتاہے؟،جنرل (ر) اسد درانی کے انکشافات ،نیا تنازعہ کھڑا کردیا اسلام آباد(نیوزڈیسک) سابق آئی ایس آئی چیف جنرل (ر) اسد درانی نے کتاب میں دعوی کیا ہے کہ

کارگل جنگ جنرل مشرف کا جنون تھا،آئی ایس آئی کشمیر میں تحریک آزادی کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائی، نواز شریف کو کارگل آپریشن سے متعلق بہت کم معلومات تھیں،پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے، ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر آئی ایس آئی خود فیصلے کرتی ہے، حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔پاک بھارت خفیہ ایجنسیزکے سابق چیفس کی کتاب سے ہلچل برقرار ہے سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی نے کتاب میں دعوی کیا کہ کارگل جنگ جنرل مشرف کا جنون تھا، مکتی باہنی کا قیام اور سقوط ڈھاکہ را کی اہم کامیابیاں ہیں، آئی ایس آئی کشمیر میں تحریک آزادی کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائی، نواز شریف کو کارگل آپریشن سے متعلق بہت کم معلومات تھیں۔اسد درانی نے مزید کہا پاکستانی وزرا اعظم آئی ایس آئی پر بھروسہ نہیں کرتے، ملکی سلامتی کے اہم معاملات پر آئی ایس آئی خود فیصلے کرتی ہے، حافظ سعید کے خلاف عدالتی کارروائی بہت مہنگی پڑ سکتی ہے، الزام لگے گا کہ اسد درانی کے خلاف کارروائی بھارتی ایما پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے افغانستان میں سویت یونین کی شکست کو آئی ایس آئی کا بڑا کارنامہ قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…