جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نگران وزیر اعظم کیلئے کمیٹی کا قیام،پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کو بھی نام تجویز کرنے کا حق مل گیا

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہ ہونے کے باعث معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا جس میں اپوزیشن کی جانب سے چار نام دینے کا اختیار میرے پاس ہے لیکن ہمیشہ کی طرح سب کو ساتھ لے کر چلوں گا

اور پارلیمانی کمیٹی میں پیپلزپارٹی کی طرف سے شیری رحمان اور نوید قمر کے نام دیئے جائیں گے جبکہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا ایک ایک رکن شامل ہو گا ۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تمام تر کوشش کے باوجود نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا اس لئے معاملہ اب پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا ۔ پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن کی جانب سے چار نام دینے کا اختیار میرے پاس ہے لیکن ہمیشہ بطور سیاستدان سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چلا ہوں اور اب بھی دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلوں گا انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں شیری رحمان اور نوید قمر پیپلزپارٹی کی نمائندگی کریں گے جبکہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا بھی ایک ایک رکن شامل ہو گا انہوں نے کہاکہ اب بھی پرامید ہوں کہ پارلیمانی کمیٹی متفقہ اور کثرت رائے سے نگران وزیر اعظم کے نام کا فیصلہ کر لے گی لیکن اگر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہ ہونے کے باعث معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا جس میں اپوزیشن کی جانب سے چار نام دینے کا اختیار میرے پاس ہے لیکن ہمیشہ کی طرح سب کو ساتھ لے کر چلوں گا اور پارلیمانی کمیٹی میں پیپلزپارٹی کی طرف سے شیری رحمان اور نوید قمر کے نام دیئے جائیں گے جبکہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا ایک ایک رکن شامل ہو گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…