بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

سوات موٹر وے منصوبے میں خیبرپختونخواحکومت نے قومی وسائل ٹھیکیدارکی جھولی میں ڈال دیئے ،آمدن کتنے طویل عرصے تک ٹھیکیدار لیتا رہے گا؟ ناقابل یقین انکشافات

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)سوات موٹر وے منصوبے میں خیبرپختونخواحکومت نے قومی وسائل ٹھیکیدارکی جھولی میں ڈال دیئے ،آمدن کتنے طویل عرصے تک ٹھیکیدار لیتا رہے گا؟ ناقابل یقین انکشافات،عوامی نیشنل پارٹی نے سوات موٹر وے منصوبے میں صوبائی حکومت کی تاریخ ساز اقربا پروری کی شدید مذمت کرتے ہوئے نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کو سوات موٹر وے کی آمدن سے محروم کرنے کی سازش کا نوٹس لے ، پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سوات موٹر وے کی کل لاگت43ارب کے لگ بھگ ہے جس میں اراضی خریداری

سمیت25ارب روپے سے زائدصوبائی حکومت جبکہ17ارب ٹھیکیدار نے ادا کئے ، انہوں نے کہا کہ لاگت کا 50فیصد سے زائد صوبائی حکومت نے ادا کیا ہے اس کے باوجود آمدن ٹھیکیدار کے کھاتے میں ڈال کر اسے نوازنے کی کوشش کی گئی ہے جو آئندہ25برس تک اس سے ہونے والی آمدن وصول کرے گا ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اسمبلی و دیگر متعلقہ فورم سے منظوری لئے بغیر آمدن کی بندر بانٹ کا فیصلہ کیا اور صوبے کو آئندہ25سال کیلئے آمدن سے محروم رکھا گیا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ منصوبے میں اتنی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کے باوجود صوبے کو فائدہ دینے کی بجائے ٹھیکیدار کو فائدہ دینے کے پیچھے کون سے عوامل کار فرما تھے ، انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک صوبے میں اقربا پروری کو فروغ دیا گیا اور اس کی صوبے میں کئی مثالیں موجود ہیں ، سردار حسین بابک نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت غریب صوبے کے قومی وسائل ٹھیکیدار کی جھولی میں ڈالے گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نیب نوٹس لیتے ہوئے حکومت اور ٹھیکیدار کے درمیان ہونے والے معاہدے اور صوبے کو خطیر آمدن سے محروم کرنے کی تحقیقات کرے ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل بے دردی سے لوٹے گئے ہیں اور بادی انظر میں اس کے پیچھے سازش کارفرما دکھائی دیتی ہے ، انہوں نے کہا کہ کرپشن اور کمیشن کی لمبی داستانیں لمحہ فکریہ ہیں ،سردار بابک نے کہا کہ صوبے کے وسائل لوٹنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے حکومت اس سلسلے میں پختون عوام کو وضاحت پیش کرے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…