جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کوہ پیمائی کی صنعت کو سنگین خطرات لاحق ٗ جانتے ہیں رواں موسم گرما میں کتنے کوہ پیماؤں نے کے ٹو اور نانگا پربت کا رخ کیا؟

datetime 20  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں کوہ پیمائی کی صنعت کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہوگئے ٗ رواں موسم گرما میں صرف 30 کوہ پیماؤں نے کے ٹو اور نانگا پربت کا رخ کیا۔الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے سیکریٹری قرار حیدری کے مطابق پاکستان میں بہترین کھانا، ثقافتی رنگوں سے بھرپور ماحول، خوبصورت تاریخی مقامات سمیت دنیا کی پانچ بڑی اور متعدد چھوٹی چوٹیاں ہیں تاہم چوٹیاں کے

درشوار ترین راستوں کی وجہ سے کوہ پیماہ دوسرے مملک سے اپنی مہم کا آغاز کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شمالی علاقہ جات کے فضائی کرائیوں میں اضافہ اور گلگت سے اسکردو تک خراب روڈ کی وجہ سے مقامی سیاحوں کی دلچسپی ختم ہورہی ہے۔قرار حیدری نے بتایا کہ روڈ کی ناگفتبہ حالت کے باعث 4 گھنٹے کا راستہ 10 گھنٹوں سے زائد پر محیط ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال غیریقینی کیفیت کو فروغ دے رہی ہے جس کی وجہ سے سیاحت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔یاد رہے کہ 2013 میں نانگا پربت پر 4 ہزار 2 سو میٹر کی بلندی پر پولیس کی وردی میں ملبوس مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں اور 1 مقامی گائڈ کو ہلاک کردیا تھا۔قرار حیدری نے تجویز دی کہ غیر ملکیوں سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی مرتب کرنی ہوگی، سیاحت سے متعدد ذریعہ معاش منسلک ہے، اگر محکمہ سیاحت کوئی پالیسی مرتب نہیں کرے گا یا مارکیٹنگ میں دلچسپی ظاہر نہیں کرے گا تو ملک میں سیاحت کو بھی فروغ نہیں ملے گا۔اس کے باوجود کوہ پیماء نانگا پربت، کے ٹو اور گاشربرم ون اور ٹو پر پیمائی میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ دیگر چھوٹی چوٹیوں پر کوہ پیمائی کیلئے روس، ہنگری، سویڈن، جرمنی، ایران، آسٹریا، کینیڈا، چلی، اٹلی اور امریکہ سمیت دیگر ملک سے غیر ملکی آنا چاہتے ہیں۔قرار حیدری نے بتایا کہ رواں موسم میں تجربہ کار اور نیم تجربہ کار کوہ پیما آئیں گے۔انہوں نے بتایا کہ عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما مائیک ہارن رواں سال نانگا پربت سر کرنے کے لیے آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ کوہ پیمائی کے موسم سے قبل ہی امیدواروں کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…