جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’چین سے آنیوالی یہ تمام چیزیں حرام قرار‘‘ خیبر پختونخوا حکومت کے اعلان نے پورے صوبے میں کھلبلی مچا دی

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے چین سے درآمد کی جانی والی اشیائے خوردونوش کو حرام قرار دے دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق چین سے درآمد کئے جانے والے پروسیسڈ فوڈ آئٹمز پر اس وقت تک پابندی عائد رہے گی جب تک کہ ان کے حلال ہونے کا سرٹیفکیٹ پیش نہیں کر دیا جاتا۔ ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ کا کہنا ہے کہ چین سے منگوائی جانے والی کھانے پینے کی کئی چیزوں کے

اجزا میں جیلیٹن شامل ہوتا ہے جو کہ عموماً جانوروں کے گوشت اور ہڈیوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ چین میں جانوروں کو ذبح کرنے کا طریقہ کار واضح نہیں اور نہ ہی جانوروں کو اسلامی طریقے کے مطابق ذبح کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ابھی تک چین سے درآمد کردہ خوراک کے متعلق حلال کی سند مہیا کرنے کا بھی کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلال سند کے بغیر گوشت کی درآمد پر پہلے سے ہی پابندی ہے جبکہ وہ تمام اشیائے خوردونوش جس میں شراب یا اس کے اجزا کا استعمال ہو، اس کی درآمد پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ترجمان اتھارٹی کے مطابق پشاور کی مختلف مارکیٹوں کا سروے کیا جہاں پر چین سے منگوائی گئی کھانے پینے کی مختلف اشیاءکی ایک وافر مقدار موجود تھی۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ تمام اشیاءحلال فوڈ کی کیٹگری میں نہیں آتیں۔ اس کے علاوہ ان تمام اشیائے خورد ونوش پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے جس کے اجزائے ترکیبی اردو یا انگریزی میں واضح نہ لکھے ہوئے ہوں یا ان میں حشرات کی کوئی بھی قسم شامل ہو۔حلال فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے کہا کہ چین سے درآمد کردہ ٹافیاں، چاکلیٹ، چکن اور گوشت کے تیار شدہ کھانے اور دیگر اشیا پشاور کے تمام بڑے سٹوروں میں دستیاب ہیں، لیکن عوام اور دکاندار معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ان حرام چیزوں کا استعمال کر رہے ہیں۔اس لئے شہری یہ چیزیں نہ خریدیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…