بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

آسمان گرتا کیوں نہیں۔۔زمین پھٹ کیوں نہیں جاتی اسرائیلی جیلوں میں قید مظلوم فلسطینی کیسے روزہ گزارتے ہیں؟ ایسی خبر کہ آپ کی آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب رواں ہو جائے گا

datetime 18  مئی‬‮  2018 |

تل ابیب(آئی این پی)اسرائیلی جیل انتظامیہ نے تربوز پر 18برس سے عائد پابندی اٹھا لی، اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو روزہ افطاری کے لئے تربوز کی فراہمی جاری کر دی گئی،غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی اسیر اس تربوز کی تصویر کو باہر بھیجنے میں کامیاب ہو گیا جو اس نے 17 برس کے طویل عرصے کے بعد دیکھا تھا۔اسرائیلی جیلوں میں طویل

عرصے سے قید اسیر ابو محمود نے تصویر کے ساتھ منسلک اپنے تبصرے میں بتایا کہ “جیل انتظامیہ نے تربوز پر تقریبا 18 برس سے عائد پابندی کو اٹھا لیا۔ انتظامیہ نے ہر چھ قیدیوں میں ایک تربوز تقسیم کیا اور ہم اب اذانِ مغرب کا انتظار کر رہے ہیں”۔اسرائیلی جیلوں میں 13 برس گزارنے والے ایک قیدی ابراہیم سمحان نے بتایا کہ قابض حکام نے 2000 میں بیت المقدس کی انتفاضہ تحریک کے وقت سے قیدیوں کے لیے تربوز پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہیں اندیشہ تھا کہ تربوز کے ذریعے بعض چیزوں کو خفیہ طور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ سمحان کے مطابق ایک قیدی کے لیے یہ اقدام اذیت رسانی اور اسے محرومی کا احساس دلانے کے مترادف تھا۔قابض حکام قیدیوں کے لیے بعض سادی سی اشیا مثلا آئس کریم، خوشبو، تسبیح کے رنگین دانے، چمچے اور شیشے کے گلاس وغیرہ بھی ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ماضی میں قیدیوں کی جانب سے جیل میں اپنی روز مرہ کی زندگی بہتر بنانے کے واسطے ہڑتالوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ سونے کے لیے تکیے کا حصول قیدی کے لیے انتہائی خوش بختی شمار کی جاتی ہے۔ اسی طرح یکم رمضان کو اسرائیلی حکام کی جانب سے جیلوں میں تربوز کے داخلے کی اجازت دینا بھی ہے۔ قابض حکام نے 2000 میں بیت المقدس کی انتفاضہ تحریک کے وقت سے قیدیوں کے لیے تربوز پر پابندی عائد کر دی تھی۔ انہیں اندیشہ تھا کہ تربوز کے ذریعے بعض چیزوں کو خفیہ طور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ سمحان کے مطابق ایک قیدی کے لیے یہ اقدام اذیت رسانی اور اسے محرومی کا احساس دلانے کے مترادف تھا۔قابض حکام قیدیوں کے لیے بعض سادی سی اشیا مثلا آئس کریم، خوشبو، تسبیح کے رنگین دانے، چمچے اور شیشے کے گلاس وغیرہ بھی ممنوع قرار دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…