منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب، بڑے اسلامی ملک کے لاکھوں شہریوں کو ملک بدرکرنے کا فیصلہ یہ پاکستانی نہیں بلکہ تعلق کس ملک سے ہے؟جان کر آپ بھی افسردہ ہو جائینگے

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب نے ملک سے سات لاکھ یمنی مہاجرین کو ملک بدرکرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ رواں برس سترہ ہزار یمنی مہاجرین کو ملک بدر کر چکا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) نے خدشہ ظاہر کیا کہ سعودی عرب میں موجود سات لاکھ مہاجرین کو بھی واپس جنگ زدہ ملک یمن روانہ کیا جا سکتا ہے۔

آئی او ایم کے مطابق سعودی حکومت نے ایسے یمنی مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جن کے پاس سعودی عرب میں قیام کا قانونی اجازت نامہ نہیں ہے۔ ایسے مہاجرین کو جرمانے، قید اور ڈی پورٹیشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ سعودی لیبر مارکیٹ میں غیرقانونی طور پر کام کرنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں بنگلہ دیشی، فلپائن اور ایتھوپیا کے باشندوں کو بھی واپس روانہ کیا جا رہا ہے تاہم آئی او ایم سے وابستہ سینئر اہلکار محمد عبدیکر کا کہنا تھا کہ یمنی مہاجرین کی واپسی ایک پریشان کن بات ہے، آپ یمن جیسے ممالک کے لوگوں کو ڈی پورٹ نہیں کر سکتے، بالخصوص ایسے حالات میں جب وہاں بمباری جاری ہو۔حال ہی میں یمن کا دورہ کرنے والے عبدیکر نے سوال کیا کہ آیا ایسا کوئی راستہ ہے کہ سعودی عرب یمنی مہاجرین کے واپسی کے عمل کو روک دے۔ کم از کم اْس وقت تک، جب تک یمن ایک ایسا ملک نہیں بن جاتا جہاں جانا ممکن ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں تقریبا سات لاکھ یمنی مہاجر موجود ہیں، جو وہاں کام بھی کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…